وجہ یہ ہے کہ اسے تمہارے رب عَزَّ وَجَلَّ نے بنایا ہے جو اپنے بنانے اور ترتیب دینے میں یکتا ہے اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم خود کو، اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے گھر کو بھول کر پیٹ اور شرم گاہ کے چکر میں پڑے ہو۔ تمہاراتو ایک ہی مقصد رہ گیا ہے خواہش پوری ہواور عزت وشہرت ہو حالانکہ تمہاری خواہش کی انتہا یہ ہے کہ تمہارا پیٹ بھرا ہوجبکہ جتنا چوپایا کھاتا ہے تم اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کھا سکتے لہٰذا چوپایا تو تم سےدس درجے بڑھ گیااور تمہاری ناموری کی انتہا یہ ہے کہ دس یا سو افراد تمہارے سامنے تمہاری تعریف کریں اور تمہارے بارے میں اپنی باطنی خرابیوں کو چھپائے رکھیں۔ بالفرض اگر وہ تمہاری محبت میں سچےبھی ہوں تو پھر بھی اپنے نہ تمہارے نفع، نقصان، موت وزندگی اور موت کے بعد اٹھنے کے مالک ہیں ۔تمہارے شہرےمیں کتنے ہی یہود ونصارٰی ایسے ہوں گے جن کی عزت وشہرت تمہاری ناموری سے کہیں زیادہ ہو گی پھر بھی تمہارا حال یہ ہے کہ تم اس دھوکے میں مبتلا ہو اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کی خوبصورتی سے غافل ہو نیز مُلک ومَلکوت کے مالک کی عظمت وجلالت کی طرف نظر کر کے لذت وسرور اٹھانے سے محروم ہو۔
انسانی غفلت کی مثال:
تمہاری اور تمہاری عقل کی مثال اس چیونٹی کے جیسی ہے جواپنے اس سوراخ سے نکلتی ہے جو اس نے بادشاہ کے محلات میں سے اس عالیشان محل میں بنایا تھا جس کی بنیادیں مضبوط اور عمارت بلند وبالاہے، لونڈیوں، غلاموں سے مزین اور طرح طرح کے خزانوں اور عمدہ چیزوں سے آراستہ ہے۔اب جب چیونٹی اپنے سوراخ سے نکل کر اپنی ساتھی کو ملے گی اور گفتگو کرنے کی طاقت ہوئی تو اپنے گھر ،اپنی غذا اور غذا جمع کرنے کی کیفیت ہی اسےبتا سکے گی۔وہ محل اور محل میں موجود بادشاہ سے بے پروا اور اس میں غوروفکر سے عاری ہے بلکہ اسے اپنی ذات، اپنی غذا اور اپنے گھر کے سوا کسی دوسری طرف بڑھنے کی طاقت ہی نہیں تو جس طرح چیونٹی محل اور اس کی زمین سےنیز اس کی چھت، دیواروں، کمروں اور ان کے مکینوں وغیرہ سے غافل ہے تم بھی اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر اور ان فرشتوں سے غافل ہو جو آسمانوں کے مکین ہیں۔ تم آسمان کے متعلق اتنا ہی جانتے ہو جتنا چیونٹی تمہاری چھت کےمتعلق جانتی ہےاور آسمانی فرشتوں کی تمہیں فقط اتنی ہی خبر ہے جتنی چیونٹی کو تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی ہے۔ البتہ چیونٹی کے پاس تو تمہیں ، تمہارے گھر کے