آسمان ایک ستارے کی چوڑائی کے برابر چلتا ہے۔(1) ستارے کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کا سفر ایک لمحہ میں حالانکہ ستارہ زمین سے سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ معلوم ہوا کہ آسمان ایک لمحے میں زمین کے مقابلے میں سو گنا چلتا ہے اور یہ مسلسل گردش میں ہے جبکہ تمہیں بالکل خبر نہیں۔
’’ہاں نہیں‘‘ میں500سال کی مسافت:
حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے اس قول کی طرف نظر کرو جو انہوں نے رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضور سیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا: ’’کیا سورج ڈھل گیا؟‘‘عرض کی :’’نہیں ہاں!‘‘ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے یہ کیا کہا کہ نہیں ہاں۔‘‘عرض کی:’’ میرے نہیں اورہاں کہنے کے درمیان سورج500سال کی مسافت چلا ہے۔“
سورج کا بڑا جسم اور اس کی چال کے ہلکے پن کو دیکھوپھر اُس پیدا کرنے والی حکیم ذات کی قدرت کی طرف نگاہ کرو کہ کس طرح اس نے سورج کی صورت کو باوجود اتنا وسیع ہونے کے چھوٹی سی آنکھ میں سمودیا حتّٰی کہ تم زمین پر بیٹھ کر اپنی آنکھ کھولتے ہو اور پورا سورج دیکھ لیتے ہو۔ لہٰذا تم اتنا بڑا آسمان اور اس کے اتنے زیادہ ستارے مت دیکھو بلکہ اِن کے پیدا کرنے والے کی طرف دیکھو کہ اُس نے کس طرح اِنہیں پیدا کیا اور کسی ستون اور کسی تعلق وجوڑکےبغیر ان کو روکاہوا ہے۔ تمام جہاں گویا ایک گھر اور آسمان اس کی چھت ہے۔ اس وقت تم پر تعجب ہوتا ہے جب تم کسی امیر شخص کے گھر میں داخل ہو کر اسے مختلف رنگوں سے منقش اور سنہرے رنگ سےمُزَیَّن دیکھ کر تعجب کرنے لگتے ہو اور تمام عُمْر تمہاری زبان پر اس کے حُسْن کے چرچے رہتے ہیں جبکہ تم ہر آن اِس عظیم گھر(یعنی کائنات)،اس کےزمین وآسمان،اس کی فضا اور عجیب وغریب سامان کونیز خوبصورت جانوروں اور ان کے دلکش نقوش کو دیکھتے ہو پھر بھی اس کے متعلق گفتگو نہیں کرتے اور نہ ہی تمہارا دل اس طرف متوجّہ ہوتا ہے۔یہ گھر(یعنی کائنات) اُس گھر سے کسی طور پر کم نہیں جس کی تم تعریف کرتے ہو بلکہ وہ بھی اِس گھر کا ایک کمتر جز یعنی زمین کا ایک جز ہی تو ہے اس کے باوجود تم اس عظیم گھر کی طرف نہیں دیکھتے۔ اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ زمین وآسمان دونوں ساکن ہیں کواکب چل رہے ہیں۔(فتاوی رضویہ(مخرجہ)،۲۷/ ۲۰۰ )