حاصِلِ کلام یہ ہے کہ ستاروں میں سے ہرستارے کے بارے میں تم یہ یقین رکھو کہ اس کی پیدائش، اس کی مقدار، اس کی شکل، اس کے رنگ، اس کو آسمان میں رکھنے ، پھر وسط آسمان اور دیگر ستاروں سے قریب ودور رکھنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے شمار حکمتیں ہیں۔ اس تمام کو تم ہمارے بیان کردہ اعضائےبدن پر قیاس کرلو کیونکہ ہر حصے میں کوئی نہ کوئی حکمت بلکہ کثیر حکمتیں ہیں۔ آسمان کا معاملہ بہت عظیم ہے بلکہ زمینی جہاں کو آسمانی جہاں سے نہ تو جسم کے بڑے ہونے میں کوئی نسبت ہے اور نہ معانی کے کثیر ہونے میں۔زمینی وآسمانی معانی کے مابین فرق کو زمین وآسمان کے باہمی فرق سے جان لواور تم زمین کی بڑائی اور اس کے کناروں کی وسعت کو جانتے ہو کہ زمین کے ہرکونے کا ادراک انسان کے بس میں نہیں ۔
سورج اور ستارے زمین سے بڑے ہیں:
تمام اہْلِ نَظَر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورج ایک سو ساٹھ سے کچھ زیادہ زمینوں کے برابر ہےاور احادِ یْثِ مُبارَکہ میں ایسے اشارے موجود ہیں جو سورج کے بڑا ہونےکی خبر دیتے ہیں۔(1) پھر ستاروں ہی کو دیکھ لو جو تمہیں چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں حالانکہ سب سے چھوٹا ستارہ زمین سے آٹھ گنا بڑا ہے جبکہ سب سے بڑا ستارہ تو 120گنا بڑا ہے۔ اب اسی سے تم آسمان کی بلندی اور دوری کا اندازہ لگا سکتے ہو کیونکہ دور کی چیز چھوٹی ہی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی دوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۲۸) ترجمۂ کنز الایمان:اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا۔
آسمان گردش میں ہے:
احادیث میں آتا ہےکہ ’’ہر دو آسمانوں کے مابین پانچ سو سال کی مسافت ہے۔“(2) جب معلوم ہوچکا کہ ایک ستارہ زمین سے کئی گنا بڑا ہے تو اب تم ستاروں کی کثرت کو دیکھو پھر اس آسمان اوراس کی وسعت کو دیکھو جس پر یہ ستارے چمکتے ہیں پھر ان کی تیز رفتار حرکت کی طرف توجہ کرو۔ تمہیں اس کی حرکت بھی محسوس نہیں ہوتی چہ جائیکہ اس کی تیز رفتاری محسوس کر سکو حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک لمحہ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص، ۲/ ۶۵۶، حدیث:۶۹۵۱
المعجم الکبیر، ۸/ ۱۶۸، حدیث:۷۷۰۵
2…سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الحدید، ۵/ ۱۹۴، حدیث:۳۳۰۹