Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
466 - 784
 ہی اسے عبور کرنا ہے۔ تم کتنے بے حیا ہو کہ اب بھی کہتے ہو: ”میں نے اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کی مخلوق  کو پہچان لیا ہے، اب میں کس چیز میں فکر کروں اور کس پر مطلع ہوں؟“ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاؤ اور اسے دیکھو، اس کے ستاروں،ان کی گردش ،اس کے سورج وچاند ،ان کے طلوع وغروب اورمشرق ومغرب کے مختلف ہونے میں غور کرو اور دیکھو کہ بغیر خرابی اور بغیر کسی کمی بیشی کے یہ اپنے مدار میں مسلسل حرکت کر رہے ہیں بلکہ ہر ایک اپنی معلوم منزل کی طرف ایک مقررہ رفتار سے بڑھ رہا ہے جس میں نہ کوئی کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا حتّٰی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں ایسے لپیٹ دے گا جیسے کتاب کو لپیٹا جاتا ہے۔پھر ستاروں کی تعداد ، ان کی کثرت اور ان کے مختلف رنگوں کو دیکھو کہ کچھ سرخ اور کچھ سفیدی  مائل ہیں اور کچھ کا رنگ سیسے کی مانند ہے۔ ان کی شکلوں کو تو دیکھو کچھ بچھو کی طرح ، کچھ بکری کے بچے کی طرح اور  کچھ بیل، شیر اور انسان کی شکل کے مشابہ ہیں۔ الغرض زمین میں کوئی صورت ایسی نہیں ہے جس کی مثل آسمان میں نہ ہو۔
سورج کی گردش اور موسم:
	سورج کو دیکھو کہ پورا سال اپنےمدار میں چلتا رہتا ہے  پھر ہر روز طلوع وغروب ہوتا ہےجو اس کی دوسری چال ہے اور اس چال کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سورج کو مسخر کر دیا ہے۔ اگر سورج کا طلوع وغروب نہ ہوتا تو دن رات ایک ہی ہو جاتےاوروقت کی پہچان ہی نہ ہوتی جس کےباعث  ہمیشہ اندھیرا ہوتا یا روشنی، یوں  کام کاج اور آرام کے وقت میں تمیز ہی نہ ہو سکتی۔ دیکھو ! کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے رات کو پردہ پوش، نیند کو آرام اوردن کو روزگار کے لئےکیا۔رات کو دن کے حصے میں ڈالا اور دن کو رات سے نکالا  اور دونوں میں مخصوص ترتیب پر کمی زیادتی بھی فرماتا ہے۔ وسطِ آسمان سے سورج کے اِدھر اُدھر مائل ہونے کو دیکھو حتّٰی کہ اس کے سبب سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے موسم تبدیل ہوتے ہیں۔  جب سورج وسط ِآسمان سے  پستی کو جھکتا ہے تو ہوا ٹھنڈی اور موسم سرد ہو جاتا ہے اور جب وسطِ آسمان میں ٹھہرتا ہے توسخت گرمی ہو جاتی ہے اور جب ان دونوں کے مابین ہو تا ہے تو موسم معتدل ہوجاتا ہے۔
	آسمان کے اتنے عجائبات ہیں کہ ان کے اجزا میں سے کسی جز کے عُشر عشیر کا بیان کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی، یہ سب کچھ تو محض غور وفکر کے راستے پر آگاہی ہے۔