دیکھنی ہے کیونکہ اس وصف میں تو چوپائے بھی تمہاری صف میں کھڑے ہیں۔ اگر اس کا یہی مطلب ہوتا تو پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعریف میں یہ کیوں فرماتا:
وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (پ۷، الانعام:۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔
جو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاتا ہےاسے تو قرآن مجید ’’مُلک‘‘ اور ’’شہادت‘‘ سے تعبیر فرماتا ہے اور جو ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہو اسے ’’غیب‘‘ اور ’’مَلکوت‘‘ سے تعبیر فرماتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہر چھپے اور ظاہر کا جاننے والا اور مُلک ومَلکوت کا بادشاہ ہے۔ اس کے علم میں سے کسی کوکچھ ملتا ہے تو فقط اتنا ہی جتنا ربعَزَّ وَجَلَّ چاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(پ۲۹،الجن:۲۶، ۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
معرفَتِ الٰہی اتنی آسان نہیں:
اےعقل مند!اپنی فکرکوملکوت میں دوڑا،ممکن ہےعنقریب تیرےلئےآسمان کےدروازےکھل جائیں تو پھرتیرادل اس کےکناروں میں دوڑ لگائےحتّٰی کہ عرشِ الٰہی کے سامنےجاکھڑاہو۔امیدہےاس وقت تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اُس رتبہ کو پہنچ جائے جس کےمتعلق انہوں نے فرمایا:’’میرے دل نے میرے رب کو دیکھا ہے۔‘‘ دور تک آدمی جب ہی پہنچتا ہے جب قریب والے کو پار کر لے اور تیرے قریب تیرا نفس ہے پھر زمین ہے جو فی الحال تیرا ٹھکانا ہے پھر ہوا ہے جس نے تجھے گھیرا ہوا ہے پھر نباتات وحیوانات اور زمین کی تمام اشیاء ہیں پھر فضا کے وہ عجائبات ہیں جو زمین وآسمان کے مابین ہیں پھر ساتوں آسمان اپنے ستاروں سمیت پھر کرسی پھر عرش اور پھر آسمان کے خزانے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتےہیں۔اس کے بعد کہیں جا کر عرش وکرسی، زمین وآسمان اور کل جہانوں کے رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف نظر بڑھتی ہے۔تمہارےاور اس عظیم منزل کے درمیان گہری گھاٹیاں، بلند پہاڑ اور طویل مسافت ہے جبکہ تم تو ابھی تک اپنی سب سے قریب گھاٹی (یعنی نفس) کو بھی عبور نہیں کر سکےحالانکہ فقط اپنےنفس کی معرفت ہوجانا