Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
464 - 784
 آیت کو پڑھے پھر اپنی موچھوں پر ہاتھ پھیرے۔“(1) یعنی بغیر غور وفکر کیے آگے بڑھ جائے۔
	ان نشانیوں سےمنہ پھیرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرماتا ہے:
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوۡظًا ۚۖ وَّ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾ (پ۱۷،الانبيآء:۳۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی اور وہ اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں۔
آسمان کی عظمت کے متعلق تین فرامین باری تعالٰی:
	تمام سمندروں اور زمین کو آسمان سے کیا نسبت یہ تو عنقریب بدلنے والے ہیں جبکہ آسمان سخت مضبوط اور بدلنے سے اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اس کا مقررہ وقت نہ آجائے۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آسمان کو ’’محفوظ‘‘ ارشاد فرمایا ہے۔
(1)…وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوۡظًا ۚۖ (پ۱۷،الانبيآء:۳۲)
 ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی۔
(2)…وَّ بَنَیۡنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾(پ۳۰، النبا:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں)۔
(3)…ءَاَنۡتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰىہَا ﴿ٝ۲۷﴾ رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۲۷، ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا مشکل یا آسمان کااللہ نے اسے بنایا اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا۔
	لہٰذاتم ملكوت (یعنی آسمانوں کی بادشاہت) کی طرف دیکھو تاکہ تمہیں عظمت وبزرگی کے عجائبات نظر آئیں۔ دیکھنے کا یہ مطلب مت سمجھ لینا کہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر آسمان کا نیلا رنگ  اور ستاروں کی روشنی وغیرہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب التوبة، ۲/ ۸، حدیث:۶۱۹،بتغیرقلیل