(5)…وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىہَا ﴿۱﴾۪ۙ وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ﴿۲﴾۪ۙ (پ۳۰،الشمس:۱، ۲)
ترجمۂ کنز الایمان: سورج اور اس کی روشنی کی قسم اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے۔
(6)…فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ﴿ۙ۱۵﴾ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ ۙ﴿۱۶﴾ (پ۳۰،التكوير:۱۵، ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں سیدھے چلیں تھم رہیں۔
(7)…وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾ (پ۲۷،النجم:۱) ترجمۂ کنز الایمان:اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے۔
(8)…فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۷۵﴾وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۷۶﴾ (پ۲۷،الواقعة:۷۵، ۷۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو مجھےقسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔
یہ تو تم جان چکےہو کہ ناپاک پانی کے قطرے (یعنی نطفہ)کے عجائبات سے جب اگلے پچھلے عاجز ہیں حالانکہ اس کی قسم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یاد نہیں فرمائی تو اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کی قسم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یاد فرمائی اور رزق کی نسبت اس کی طرف فرمائی۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶،الذٰريٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
آسمانوں اور زمین میں غور وفکر کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔
رسولِ اکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہلاکت ہے اس کے لئے جو اس