Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
462 - 784
 تَروتازگی  اور شادابی کو برقرار رکھے۔ یہی صورتِ حال تمام پھلوں کی بھی ہے۔
	بالفرض اگر پانی اپنی طبیعت (یعنی بھاری ہونے)کی وجہ سے نیچے آتا ہے تو پھر اوپر کیسے چڑھتا ہے؟ اور اگر کوئی جذب کرنے والا اسے جذب  کرتا ہے تو اس جاذِب کو کس نے مسخر کیا؟ بالآخر اس کی انتہا آسمانوں اور زمین کے خالق اور مُلک وملکوت کی عظمت والے خدا عَزَّ  وَجَلَّ پر ہوگی۔جب یہ بات ہے  تو ابتدا ہی میں معاملہ اس کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا گیا؟ معلوم ہوا کہ جاہل کی انتہا عاقل کی ابتدا ہے۔
قدرت کی نشانی آسمان اور ستارے:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عظیم قدرت کی ایک نشانی آسمانوں کی بادشاہت اور ان میں موجود ستارے ہیں جوکہ امْرِ کُل  ہیں۔ جس نے تمام چیزوں کی معرفت حاصل کر لی لیکن آسمان کے عجائبات  کو نہ جانا تو گویا اس نے کچھ بھی حاصل نہ کیا کیونکہ زمین، سمندر، ہوا اور تمام چیزیں آسمانوں کے سامنے ایسی ہیں گویا سمندر کا ایک قطرہ بلکہ اس سے بھی کم۔ دیکھو! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی کتاب میں آسمانوں اور ستاروں کی کیسی عظمت بیان فرماتا ہے، تقریباً ہرسورت میں کہیں نہ کہیں ان کی بڑائی ذکر فرمائی حتّٰی کہ کئی مقامات پر ان کو بطور قسم یاد فرمایا۔
رب تعالٰی کا آسمان اور ستاروں کی قَسم یاد فرمانا:
(1)…وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾ (پ۳۰،البروج:۱)	ترجمۂ کنز الایمان:قسم آسمان کی جس میں بُرج ہیں۔
(2)…وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ ۙ﴿۱﴾ (پ۳۰،الطارق:۱)    ترجمۂ کنز الایمان:آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی۔
(3)…وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُکِ ۙ﴿۷﴾ (پ۲۶،الذٰريٰت:۷)	 ترجمۂ کنز الایمان:آرائش والے آسمان کی قسم۔
(4)…وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىہَا  ﴿۵﴾۪ۙ (پ۳۰،الشمس:۵)	ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم۔