جانتا ہے جس نے ان کو پیدا فرمایا۔ان میں سے ہر قطرہ زمین کے ہر حصے اور اس میں رہنے والے ہر حیوان مثلاً چرند پرند،کیڑے مکوڑے اوردیگر جانوروں کے لئے متعین ہے۔ہر قطرے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک تحریر ہے جسے کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی مثلاً یہ رزق فلاں پہاڑ میں رہنے والے فلاں کیڑے کے لئے ہے، فلاں وقت میں جب وہ پیاسا ہو گا تو یہ اسے مل جائے گا۔ یونہی اس لطیف پانی سے سخت اولوں کا بننا، روئی کے گالوں کی طرح نرم برف باری ہونا جیسے بے شمار عجائبات ہیں۔
یہ سب عظمت وقدرت والے کا فضل اور پیدا کرنے والی غالب ذات کا غلبہ ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو اس میں شرکت ہے نہ دخل۔بلکہ مؤمنین کے لئے اس کی عظمت وجلالت کے سامنے جھکنے اورخشوع و خضوع رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں جبکہ اندھے مُنکِر لوگ اس کی کیفیت سے جاہل ہیں اور اس کے سبب وعِلَّت کو بیان کرنے میں محض بے تکے اندازے لگاتے ہیں۔
بارش ثقیل ہونے کےباعث نہیں برستی:
ایک فریب خوردہ جاہل کہتا ہے: پانی اس لئے اترتا ہے کیونکہ وہ بھاری ہوتا ہے اور اس کے اترنے کا سبب یہی ہے۔ وہ سمجھتا ہے یہ ایک معرفت ہے جو مجھ پر ظاہر ہوگئی ہے۔ وہ اسی پر خوش ہوتا رہتا ہے۔ اگر اس سے کہا جائے کہ طبیعت کسے کہتے ہیں اور اس کو کس نے پیدا کیا؟ اور وہ کون ہے جس نے پانی کی طبیعت کو بھاری بنایا؟ اور درخت کی جڑوں میں بہائے گئےپانی کو درخت کی بلند شاخوں تک کس نےترقی دی حالانکہ اس کی طبیعت میں تو بھاری پن ہے؟ پھر بھلا بھاری ہونے کےباوجود وہ اوپر سے نیچے پھر نیچے سے اوپر کیسے اُترتا چڑھتا اوردرخت کی شاخوں میں تھوڑا تھوڑا جذب ہوتا ہے اور کسی کو دکھائی بھی نہیں دیتا حتّٰی کہ اِدھر اُدھر تمام ٹہنیوں اور پتوں میں پہنچ جاتا ہے اور ہر پتّا اسے اپنی غذا بنا لیتا ہے۔ پھر وہ پتے میں موجود لمبی بڑی رگ سے ہوتا ہوا چھوٹی چھوٹی رگوں میں پھیل جاتا ہے گویا وہ بڑی رگ نہر اور یہ چھوٹی رگیں ندیاں ہیں پھر ان چھوٹی ندیوں سے ہوتا ہوا ان سے بھی چھوٹی نالیوں میں پھیل جاتا ہے۔ اس کے بعد مکڑی کے جال کی مثل پھیلے ہوئےاتنے باریک تاگوں میں پہنچ جاتا ہے جنہیں آنکھ بھی نہیں دیکھ سکتی حتّٰی کہ پتے کی تمام چوڑائی میں پھیل جاتا ہے پھر یہ پانی پتے کے ہر ہر جز کو ملتا ہے تاکہ اس کی غذا بن کر اسے بڑھائے اور اس کی