Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
460 - 784
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾ (پ۲۵،الدخان:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے کھیل کے طور پر۔
	یہ سب عجائبات زمین وآسمان  کے درمیان ہیں۔اس کی تفصیل کی طرف بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بعض مقامات پر اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ (پ۲،البقرة:۱۶۴) 
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ بادل کہ آسمان وزمین کے بیچ  میں حکم کاباندھا ہے۔
	یونہی گرج،بجلی، بادل اور بارش وغیرہ کا ذکر بھی دوسری آیات میں فرمایا گیاہے۔اگر تم ان تمام میں غور وفکر نہیں کر سکتے تو اپنی آنکھوں سے بارش کو تو دیکھتے ہو اور پھرگرج کی آواز بھی تمہارے کانوں میں پڑتی ہے۔ اس معرفت میں تو جانور بھی تمہارے ساتھی ہیں لہٰذا تم جانوروں کے پست جہاں سے عالَم بالا کی طرف پرواز کرو۔تمہاری آنکھیں کھلیں تو تم نے ظاہر کو دیکھ لیا اب اپنی ظاہری آنکھیں بند کرو اور باطنی نگاہ سے دیکھو تو تمہیں عالَم بالا کے عجائب و اسرار نظر آئیں گے۔ اس باب میں بھی فکر کا میدان اتنا وسیع ہے جس کا احاطہ ممکن نہیں۔
قدرت کی ایک نشانی بارش:
	گہرے سیاہ بادل میں غور وفکر کرو کہ کس طرح صاف ستھری فضا  میں جمع ہوجاتا ہےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جہاں چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے پیدا فرما دیتا ہے۔پھر دیکھو کہ وہ بادل باوجود اپنی نرمی کے بارش کا بوجھ اٹھائے فضا میں یہاں وہاں دوڑتا رہتا ہے حتّٰی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے پانی برسانے اور قطرے قطرے کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ہر قطرے کی مقدار اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ارادے اور شکل اس کی مشیت  کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر غور تو کرو کہ بادل زمین پر پانی کا چھڑکاؤ اورمسلسل قطرے گراتا ہے۔ ہر قطرہ اتنا جدا جدا ہوتا ہے کہ مجال نہیں ایک دوسرے سے مل جائے بلکہ ہر قطرہ اسی راستے سے اترتا ہے جو اس کے لئے معین کیا گیا ہے ذرا بھر اِدھر اُدھر نہیں ہوتا۔ پہلے آنے والا بعد میں اور بعد میں آنے والا پہلے نہیں آتا حتّٰی کہ  زمین پر قطرہ قطرہ ہوکر پہنچ جاتا ہے ۔
	اگر تمام اگلے پچھلےانسان وجن پانی کا ایک قطرہ پیدا کرنے یا کسی ایک شہر یا بستی میں گرنے والے بارش کے قطروں کو شمار کرنے کے لئے جمع ہوجائیں تو اس کا حساب لگانے سے سب عاجز آجائیں۔ ان کی تعداد وہی