لَا زَلْتُ اَنْزِلُ مِنْ وِدَادِکَ مَنْزِلًا تَتَحَیَّرُ الْاَلْبَابُ عِنْدَ نُزُوْلِہٖ
ترجمہ:میں تیری محبت میں ہمیشہ ایسی جگہ اترتا ہوں کہ جہاں اترنے پر عقل مندوں کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔
پس آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسی وجد کی حالت میں مسلسل دوڑتے رہے حتّٰی کہ بانس کے اُس جنگل میں جا پہنچے جس کے تنے کاٹ لئے گئے تھے اور جڑیں باقی تھیں ،جن سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاؤں پھٹ کر سوج گئے اور اسی سبب سے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا ۔ محبت کے اسباب میں سب سے عظیم اور قوی سبب یہی ہے اوریہ بہت کم پایا جاتا ہے ۔
حاصِلِ کلام :
محبت کے اسباب میں سے یہی مشہور و معروف تھے اور سب کے سب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات میں حقیقی طور پر ظاہر ہیں نہ کہ مجازی طور پر اور اعلیٰ درجے میں پائے جاتے ہیں ادنیٰ درجے میں نہیں۔ تو اربابِ بصیرت (یعنی اہْلِ نظر) کے ہاں معقول اور مقبول صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت ہے جس طرح اندھوں کے نزدیک معقول اور ممکن صرف غیرُاللہ کی محبت ہے۔پھر مخلوق میں جو کوئی ان اسباب میں سے کسی سبب کی بنا پر محبوب ہوتا ہے تو ممکن ہے کوئی اور بھی اس سبب میں شریک ہونے کی وجہ سے محبوب ہو اور محبت کے باب میں شرکت نقصان ہے اور کمالِ محبوب سے چشم پوشی کرنا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا کہ وصْفِ محبوب میں یکتا ہو بلکہ اس وصف میں اس کا کوئی نہ کوئی شریک لازمی ہو گااوراگر نہ ہو تو اس کا امکان ضرور ہے ، سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کے کیونکہ وہ انتہائی جلال و کمال والی صفات کے ساتھ متصف ہے اور ان صفات میں نہ تو اس کا کوئی شریک پایا جاتا ہے اور نہ اس کے پائے جانے کا امکان ہے ،لہٰذا یقینی بات ہے کہ اس کی محبت میں کسی قسم کی شرکت نہیں ہو سکتی تو جس طرح اس کی صفات میں شرکت کا دخل نہیں اسی طرح اس کی محبت میں نقصان بھی نہیں آ سکتا۔ ثابت ہوا کہ وہی اصْلِ محبت اور کمالِ محبت کا مستحق ہے۔ اس شان کے ساتھ کہ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں۔
(…تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ…)
(…صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)