Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
459 - 784
	اس طرح ہَوا کی روح حیوانات اور نباتات تک پہنچتی ہے جس کی بنا پر وہ پروش پاتے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنی  مخلوق کے گناہ گاروں پر اسے عذاب بنا دے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا صَرْصَرًا فِیۡ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ﴿ۙ۱۹﴾ تَنۡزِعُ النَّاسَ ۙ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنۡقَعِرٍ ﴿۲۰﴾ (پ۲۷،القمر:۱۹، ۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں۔
کشتیوں کے نہ ڈوبنے کی وجہ:
	تم ہَوا کی نزاكت دیکھو  پھر اس کی شدت وطاقت کو دیکھو کہ کبھی وہ پانی پر بھی غالب آجاتی  ہے مثلاً: کسی مشکیزہ میں ہَوا بھر کے بند کردیا گیا ہو پھر اس پر ایک مضبوط آدمی اس لئے بٹھایا جائے کہ اسے پانی میں ڈبو دے تو وہ ایسا نہیں کر سکے گااوربھاری  لوہا اگر پانی پر رکھا جائے تو اس میں ڈوب جائے گا۔ غور کرو کہ کس طرح اپنے لطیف ہونے کےباوجود ہَوا پانی کے مقابل اپنی قوت کے ساتھ اکٹھی ہو گئی۔
	 اسی حکمت کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کشتیوں کو پانی پر ٹھہرایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں ہوَا بھری ہو وہ پانی میں نہیں ڈوبتی کیونکہ ہوا پانی میں ڈوبنے سے رک جاتی ہے لہٰذا وہ کشتی کی داخلی سطح سے جدا نہیں ہوتی جس کی بنا پر کشتی باوجوداپنے بھاری بھرکم اور طاقتور ہونے کے  اس نازک ہوا ہی میں معلق رہتی ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کنوئیں میں گرتے ہوئے کسی مضبوط آدمی کے دامن کے ساتھ لٹک جائےتوگرنے سےبچ جاتا ہےیونہی کشتی بھی اپنے پیندے سے مضبوط ہوا کے دامن کو تھام لیتی ہےحتّٰی کہ وہ ہوا اسے پانی میں ڈوبنے سے بچا لیتی ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نےبھاری مرکب کو نازک ہوا میں بغیر کسی واسطے اور گرہ کے معلّق رکھا۔
	اب فضا کے عجائبات کی طرف نگاہ کرو اور دیکھو کہ اس سے کیا کیا ظاہر ہوتا ہے مثلاً:بادل ،گرج، چمک، بارش،برف، روشن چمک دار ستارے اور کڑک یہ تمام زمین وآسمان کے درمیان عجائبات ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان تمام کی طرف اپنے اس فرمان سے اشارہ فرمایا: