اورتو ان سے یہ نہیں سمجھتا کہ جس ذات نے تصویر ونقش بنائے اورایک مقررہ اندازہ رکھا اس کی مثل کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی نقّاش ومُصَوِّر اس کے برابرہےجیساکہ اس ذات کے نقش وصنعت کے برابر کوئی نقش وصنعت نہیں اور دو مفعولوں کے فرق سے دونوں فاعلوں کے درمیان فرق واضح ہونے کے باوجود اگر اب بھی تجھے تعجب نہیں ہوتا تو اپنے متعجب نہ ہونے پر تعجب کر کہ یہ تمام عجائب سے بڑھ کر تعجب خیز بات ہے کیونکہ جس چیزنے اتنی وضاحت کےباوجود تیری بصیرت کو اندھا اور باوجود اس روشن بیان کے تجھے حق سے چشم پوش کر دیا ہے وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تجھے اس پر تعجب ہو۔
پاک ہے وہ ذات جس نے ہدایت دی اور گمراہ بھی کیا،سرکشی میں مبتلا فرمایا اور سیدھی راہ کی راہنمائی بھی فرمائی، بد بخت بھی بنایا اور نیک بخت بھی۔ اپنے دوستوں کی آنکھوں کو کھول دیا کہ وہ کائنات کی ہر جگہ اور ہرذرّے میں صرف اسی کی ذات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔اس نے اپنے دشمنوں کے دلوں کو اندھا کر دیا اور اپنی عظمت وبزرگی کو اُن سے پردےمیں رکھا، مخلوق اسی کی، حکم اسی کا، فضل واحسان اسی کا، لُطف وکرم اسی کا اور عظمت و بزرگی بھی اسی کی ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم کوپھیر سکے اور اس کے فیصلے میں کوئی چون و چراکر سکے۔
قدرت کی نشانی ہَوا:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظیم قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی نہایت لطیف ہَوا بھی ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آسمان کی گہرائی اور زمین کی اٹھان کے درمیان قید رکھا ہے۔ جب وہ چلے تو اسے جسم پر محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن نہ اسے چھو سکتے ہیں اور نہ ہی آنکھ اس کا کوئی جسم دیکھ سکتی ہے۔ اس کی مثال سمندر کی مانند ہے جس طرح سمندر میں سمندری جانور تیرتے ہیں یوں ہی ہَوا میں پرندے اڑتے اور اپنے پروں سے اس میں تیراکی کرتے ہیں۔ جس طرح سمندر میں طغیانی کے سبب موجیں مضطرب ہوتی ہیں اسی طرح جب آندھی چلے تو زمین میں ہل چل مچ جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتاہےجب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہَوا ؤں کو حرکت دیکرخوفناک بنا دیتا ہے اور اگر وہ چاہے تو ان کو اپنی رحمت کی خوشخبری بنا دے جیسا کہ خود اس پاک ذات کا فرمان ہے:
وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ (پ۱۴،الحجر:۲۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو بارور کرنے والیاں۔