سمجھتا ہے اور پانی پینے اور نکالنے کی جو نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے دی ہے اس سے غافل ہے حالانکہ (اگر پینے یا نکالنے) سے روک دیا جائے تو اس کی خاطرخزانے اور بادشاہت دینے پر بھی آمادہ ہے۔ پھر تم دریاؤں، سمندروں، نہرروں اور پانی کے عجائبات میں غور وفکر کرو ان میں فکر کا میدان بہت وسیع ہے۔
یہ تمام روشن دلائل اور واضح نشانیاں ہیں جو زبانِ حال سے چیخ چیخ کر اپنے پیدا کرنے والے کی جلالت اور اپنے اندر اس کے کمالِ حکمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اہْلِ دِل کو اپنے نغمات سے پکارتی ہیں اور عقلمندوں کو دعوتِ فکر دیتے ہوئے کہتی ہیں: کیا تم نے ہمیں نہیں دیکھا، ہماری صورت، ہماری ترکیب، ہماری صفات، ہمارے منافع، ہمارے حالات کا اختلاف اور ہمارے بے شمار فائدے نہیں دیکھے؟ تمہارا کیا خیال ہے ہم خود بن گئیں یا ہم ہی میں سے کسی نے ہمیں بنایا ہے؟ کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ تم ایک کلمہ تین حروف سے مرکب لکھا ہوا دیکھتے ہو اور یقین کر لیتے ہو کہ یہ ایسے آدمی کی کاریگری ہے جو علم ،قدرت ،ارادہ اور گویائی کی صفت سے موصوف ہے پھر تم ان قدرتی نقوش کو بھی دیکھتے ہو جو ہمارے چہرے کے صفحہ پر اُس قلمِ الٰہی سے مرقوم ہیں جس کی ذات کے ادراک سے آنکھیں قاصر ہیں، نہ اس کی حرکت اور نہ ہی مَحلِ خط کے ساتھ اس کے اتصال کو دیکھ سکتی ہیں اس کے باوجود تمہارا دل اس صانع کی جلالت سے دور ہے۔
نطفہ اور انسانی نقش ونگار:
نطفہ دل اور کان رکھنے والوں سے کہتا ہے: اس وقت جب میرے نقش ونگار اور میرے چہرے کی صورت بن رہی تھی تم نے مجھے حیض کے خون میں گرا اور اندھیرے کے پردوں میں چھپا خیال کیا۔ نقاش نے میری تھوڑی، میری پلکیں، میری ابرو، میری پیشانی، میرے گال اور میرے ہونٹ کو نقش کیاتم محض آہستہ آہستہ ڈھلتی اس صورت کو دیکھتے رہے جبکہ نطفہ کے اندر باہر اور رِحم کے اندر باہر تمہیں کوئی نقاش نظر نہیں آتا، نہ ماں کو اس کی خبر نہ باپ کوپتا، نہ نطفہ کو معلوم کہ کون ہے اور نہ رحم کو! یہ نقاش زیادہ حیرت انگیز ہے یا وہ جسے تم قلم سے ایک تصویر بناتے ہوئے دیکھتے ہو اور وہ بھی ایسی کہ اگر ایک دو بار اسے دیکھ لو تو تم بھی سیکھ جاؤ۔کیا تم اس پر قادر ہو کہ نطفہ کو اندر باہر سے چھوئے بغیر محض نقش و تصویر سے ایسی جنس بنانا سیکھ لو جس کا ظاہر وباطن اور جمیع اجزا نطفہ سے مرکب ہیں؟ اگر تجھے ان عجائبات سے بھی تعجب نہیں ہوتا