ہوگا کہ یہ تو کوئی حیوان ہے۔الغرض خشکی پر حیوانات کی جتنی بھی قسمیں ہیں مثلاً: گھوڑے، پرندے، گائے اور انسان وغیرہ ان جیسے بلکہ ان سے بھی دُگنے سمندر میں ہیں اور بہت سے تواس میں ایسے ہیں جن کی مثال خشکی پر نظر ہی نہیں آتی۔ان کے اوصاف ایسی کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں جو بعض لوگوں نے سمندری سفر اور اس کے عجائبات وغیرہ کے عنوان سے جمع کی ہیں۔
پھر دیکھو تو کس طرح پانی کے نیچے رہنے والی سیپ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے گول موتی پیدا کیے ہیں اوردیکھو کیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پانی کے نیچے سخت پتھر سے مَرجان کو پیدا فرمایا حالانکہ وہ درخت کی مانند ایک بوٹی ہے جو پتھر سے اُگتی ہے۔ اس کے علاوہ عَنبر(یعنی سمندری جانور کے پیٹ سے نکلنے والا ایک ٹھوس مادہ)اور دیگر بے شمار نفیس اشیاءمیں غور کرو جنہیں سمندر باہر پھینکتا ہے اور کچھ خود بھی نکالی جاتی ہیں۔ پھر کشتیوں کے عجائب میں تو غور کرو کہ کس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو پانی پر ٹھہرایاجن پر تاجر وغیرہ سفر کرتے ہیں اور ان کے لئے کشتیوں کو مسخر کر دیا تاکہ وہ ان کا بوجھ اٹھائیں۔ پھر ہوا ئیں بھیجیں کہ کشتی کو چلائیں، پھر مَلّاحوں کو ہوائیں چلنے کی جگہ، ان کا رخ اور وقت بھی سکھا دیا۔ سمندر میں خدا تعالیٰ کے پیدا کیے گئے عجائبات کااحاطہ کئی جلدوں میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔
پانی میں غوروفکر:
ان تمام عجائبا ت میں سب سے زیادہ عجیب اور سب سے زیادہ ظاہر پانی کے قطرے کی کیفیت ہے۔ یہ ایک باریک ،نرم ، بہنے والا صاف شفاف جسم ہے، اس کے کئی اجزا اس طرح ملے ہوئے ہیں گویا ایک چیز ہے۔ اس کی ترکیب نہایت لطیف ہے اور جدا ہونے کو اتنی جلدی قبول کرتا ہے گویا جدا ہی تھا۔تصرف کرنے کے لئے مسخر ہے، انفصال و اتصال دونوں کو قبول کرتا ہے۔زمین پر چاہے حیوانات ہوں یا نبات ہرچیز کی زندگی کا دارومدار اس پر ہے، انسان اگر اس کا محتاج ہو اور اسے اس سے روک دیا جائے تو زمین کے تمام خزانے اور دنیا کی بادشاہت صرف پانی حاصل کرنے کے لئے خرچ کر دےبشرطیکہ ان کا مالک ہو۔پھر یہ دیکھو کہ اگر انسان پانی پی لے لیکن نکالنے (یعنی پیشاب کرنے)سےروک دیا جائے تو پھر بھی اس کو نکالنے کی خاطر زمین کے خزانے اوردنیا کی بادشاہت خرچ کر ڈالے۔ انسان پر تعجب ہے کہ وہ درہم ودینار اور عمدہ جواہرات کو کس طرح بڑا