Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
454 - 784
 ہے۔ پھر وہ بانا بنانا شروع کرتی ہے اور بانے کو تانے پر رکھتی ہے۔ یونہی وہ ایک کو دوسرے پر رکھتے ہوئے تانے بانے کے کنارے پر مضبوط گرہ لگاتی رہتی ہے اور اس تمام عمل کے دوران اس کے نقشے کی مکمل  رعایت کرتی ہے حتّٰی کہ یہ ایک جال بن جاتا ہے جس میں مچھر ، مکھی پھنس جاتےہیں، پھر ایک کونے میں بیٹھ کر پھنسے والے شکار کا انتظار کرتی ہے۔ جیسے ہی شکار اس میں گرتا ہے فوراً اس کو اچک کر کھا لیتی ہے ، اگر کوئی شکار نہ آئے تو شکار کرنے کے لئے  دیوار کے ایک کنارے سے اپنے جال تک ایک دھاگا کھینچ کر اس کے ساتھ لٹک جاتی اور  مکھی کے اُڑنے کا انتظار کرتی ہے، جیسے ہی مکھی وہاں سے گزرنے لگتی ہے خود کو اس پر پھینک دیتی ہے، پھر اسے پکڑ کر اس کے پاؤں پر دھاگا لپیٹ کر مضبوطی سے باندھ دیتی ہے اور پھر مزے سے کھاتی ہے۔
	ہر چھوٹے بڑے جاندار میں اتنےعجائبات ہیں جن کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ مکڑی نے یہ طریقہ خود سیکھا یا ایجاد کیا ہے یا کسی انسان کا ایجاد کردہ ہے یا پھر کسی آدمی نے مکڑی کو سکھایا ہے یا پھر نہ اس کو سکھانے والا کوئی ہے نہ راہنمائی کرنے والا؟ کیا کوئی صاحبِ بصیرت ا س کے لاچار، کمروز اور عاجز ہونے میں شک کرے گا؟ بلکہ ہاتھی کوہی دیکھ لو باوجود عظیم جثّہ اور ظاہری قوت ہونے کے وہ اپنے معاملے سے عاجز ہے تو پھر یہ کمزور مکوڑہ کیسے سب کچھ خود کر سکتا ہے؟ کیاوہ اپنی شکل وصورت، نقل وحرکت اور عجیب و غریب کام کی وجہ سے اپنےپیدا کرنے والے خالق وعلیم کی قدرت وحکمت پر گواہ نہیں؟تمام حیوانات کو تو چھوڑو صاحِبِ بصیرت تو اس چھوٹے سے مکوڑے ہی میں خالق کی عظمت وتدبیر، بُزرگی اور حکمت وقدرت کے کمال کا مشاہدہ کر لیتا ہے جس میں عقلیں حیران و پریشان رہتی ہیں۔
	یہ باب ایسا ہے جس کی حد بندی نہیں کی جاسکتی کیونکہ حیوانات اوران کی شکلیں پھر عادتیں اور منافع بے شمار ہیں۔ دلوں کا تعجب  اسی صورت دور ہو گا جب ان کو بہت زیادہ دیکھنے کے سبب انسان ان  سےمانوس ہو جائے۔ البتہ  جب کوئی نیا جانورنظر آتا ہے چاہے وہ کیڑا ہی کیوں نہ ہو تو تعجب ہونے لگتا ہےاور دیکھنے والا کہتا ہے:’’سُبْحَانَ اللہیہ کتنا عجیب ہے!“ جبکہ انسان تو تمام حیوانات میں سب سے زیادہ عجیب تر ہے پھر بھی اپنے اوپر تعجب نہیں کرتا بلکہ اگر وہ جانوروں کو دیکھے جن سے مانوس ہے اور ان کی شکلوں، صورتوں کی طرف نظر کرے پھر ان کی کھالوں، اون اور بالوں سے حاصل ہونے والے منافع دیکھے جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ