Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
453 - 784
ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کسی چیز کو محض کھیل کود یا بے کار پیدا نہیں فرمایا بلکہ سب کا سب جیسا ہونا چاہئےتھا اور جیسا اس کے لُطف وکرم کے لائق تھا اس نے ویسا پیدا فرمایا۔ اسی وجہ سے اس کریم ذات نے فرمایا: وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾مَا خَلَقْنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ  (پ۲۵،الدخان:۳۸، ۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے کھیل کے طور پرہم نے اُنھیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ۔
مختلف اقسام کے جاندار:
	مختلف قسم کے حیوانات بھی زمین کی نشانیوں میں سے ہیں۔اولاً ان کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو اُڑتے ہیں اور دوسرے وہ جو چلتے ہیں۔ چلنے والوں کی پھر کئی قسمیں ہیں:دو پاؤں پر چلنے والے ، چار پاؤں پر چلنے والے، دس پاؤں پر چلنے والے اور سو پاؤں پر چلنے والے جیسا کی حشراتُ الاَرض میں ان کو دیکھا بھی جاتا ہے۔ پھر ان کو مختلف شکلوں، صورتوں، عادات و صفات اور منافع  وغیرہ میں تقسیم کیا گیا۔
	ہوائی پرندوں ،خشکی کے جانوروں اور گھریلو چوپائیوں کو دیکھو تمہیں ان میں ایسے عجائبات نظر  آئیں گے جن کے سبب تم ان کے خالق کی عظمت ،اس کی قدرت اور اس کی مُصوِّری کی حکمت  میں قطعاً شک نہیں کر سکتے۔ ان سب کا احاطہ ناممکن ہے بلکہ اگر ہم مچھر، چیونٹی، مکڑی یا شہد کی مکھی  جیسے چھوٹے مکوڑوں کے عجائبات  مثلاً: ان کا اپنا گھر بنانا، اس میں اپنی غذا جمع کرنا، اپنے جوڑے سے اُلفت اٹھانا، مہارت کے ساتھ اپنی ضروریات کو اپنے گھروں تک پہنچانا وغیرہ بیان کرنے کا ارادہ کریں تو ہم اس پر بھی قادر نہیں۔
مکڑی کا گھر اور اس کی غذا:
	تم مکڑی کو دیکھو کہ نہر کے کنارے اپنا گھر بنانے کے لئے پہلے ایسی دو جگہیں تلاش کرتی ہے جن میں تقریباً ایک ہاتھ یا اس سے کچھ کم فاصلہ ہو تاکہ وہ دھاگے کو دونوں کناروں تک پہنچا سکےپھر وہ اپنا تھوک جو کہ ایک دھاگا ہوتا ہے ایک کنارے پر ڈالنا شروع کرتی ہے تاکہ وہ وہاں چمٹ جائےپھر دوسرے کنارے کی طرف بڑھتی ہے اور اسے بھی دھاگے سے مضبوط باندھ دیتی ہے۔ اسی طرح چکر لگاتی رہتی ہے اور ان دونوں کناروں میں ایک مناسب فاصلہ رکھتی ہے ۔جب ان دھاگوں سے دونوں کنارے مضبوط ہو جاتے ہیں تو تانے کی صورت بن جاتی