کرتی ہیں اور کچھ کمزور کر دیتی ہیں۔
زمین میں کوئی بھی پَتّا اور تنکا ایسا پیدا نہیں کیا گیا جس میں کوئی نفع نہ ہومگر انسان اس کی حقیقت جاننے سے قاصر ہے۔ یہ تمام نباتات کسان کی محتاج ہوتی ہیں تاکہ وہ مخصوص عمل کے ذریعے ان کو بڑھائے، کھجور کو پیوند لگایا جاتا ہے،انگور کو چھانٹا جاتا ہےاور کھیتی سے گھاس پھوس کو دور کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ زمین میں بیج بونے سے پیدا ہوتی ہیں، کچھ کی ٹہنیاں کاٹ کرلگائی جاتی ہیں اور بعض کو درخت پر قلموں کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ اگر ہم نباتات کی مختلف اَجناس واقسام، احوال ومنافع اور عجائبات ذکر کرنے کا ارادہ کریں تو اس میں کئی دن گزر جائیں گے۔ لہٰذا تمہیں ہر جنس سے تھوڑا سا نمونہ ہی کافی ہے جو غوروفکر کی راہ پر تمہاری راہنمائی کرے۔ یہ نباتات کے عجائبات تھے۔
جواہر ومعدنیات:
پہاڑوں کے نیچے رکھے گئے جواہر اور زمین سے حاصل ہونے والی معدنیات بھی زمینی نشانیوں میں سے ہیں۔ زمین کے مختلف ٹکڑے باہم ملے ہوئے ہیں،پہاڑوں کودیکھو کہ کس طرح ان میں سے سونے، چاندی، فیروزہ(ایک قیمتی پتھر)اور لَعْل(سرخ رنگ کا ہیرا)کے عمدہ جواہر نکلتے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جنہیں ہتھوڑوں سے کوٹا جاتا ہے مثلا ً:سونا ، چاندی، تانبا، پیتل اور لوہا۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں کوٹا نہیں جاتا مثلاً: فِیروز ہ اور لَعْل۔ اب دیکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح ان کو نکالنے،صاف کرنے، ان سےبرتن اور دیگر اشیا نیز زیورات ونقدی بنانے کی طرف انسان کو راہ نمائی دی۔
پھر زمینی معدنیات یعنی پیٹرول، تارکول اور گندھک وغیرہ کو دیکھو بلکہ سب سے ادنیٰ نمک ہی کو دیکھ لو جو صرف کھانے کا ذائقہ بنانے کے کام آتا ہے، یہ اگر کسی شہر سے ختم ہو جائے تو وہاں کے لوگ تیزی سے موت کی طرف بڑھنے لگیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت دیکھو کہ کیسے اس نے زمین کے بعض حصوں کو نمکین اور دلدلی بنایا کہ بارش کے سبب اس میں صاف پانی جمع ہوتا ہے جس سے مل کر نمک بنتا ہے، یہ نمک انتہائی کھارا ہوتا ہے، کسی چیز میں ملائے بغیر ایک تولہ کھا نا بھی ممکن نہیں۔یہ اس لئے ہے کہ تمہارے کھانے کو اچھا کرے اور تمہیں خوشگوار احساس ہو۔ ہر حیوان، ہر جڑی بوٹی حتّٰی کہ بے جان چیزوں میں بھی کئی کئی حکمتیں