Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
451 - 784
نباتات کے عجائبات:
	تم زمین کو دیکھو کہ کیسی مردہ ہے لیکن جب اس پر بارش برستی ہے تو تَروتازہ ہوکر بھرآتی ہے اور طرح طرح کے نباتات اُگا کر  ہری بھری ہو جاتی ہے،كئی قسم کے حیوانات اس میں سے نکلتے ہیں۔پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح خاموش اوربلند وبالا مضبوط پہاڑوں کے ذریعےزمین کے کناروں کو مضبوط کیا۔کیسے ان کے نیچے پانی رکھا جس سے چشمے پھوٹتے اور زمین میں نہریں بہتی ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سخت پتھریلی زمین اور گَدلی مٹی سے کتنا صاف شفاف میٹھا اور ہلکا پانی نکالاجس کے ذریعے ہر چیز کو زندگی بخشی۔اسی کے ذریعے کئی قسم کے درخت اور طرح طرح کی سبزیاں پیدا کیں مثلاً: غلہ، بانس، زیتون،انگور، کھجور ، اناراوربے شمار پھل پیدا فرمائے۔ان کی شکلیں ، رنگ ، ذائقے،منافع اور خوشبوئیں مختف ہیں۔ کھانے کے لحاظ سے بعض کو بعض پر فضیلت ہے،یہ سب ایک ہی پانی سے سیراب اور ایک ہی زمین سے پیدا کیے گئے ہیں۔
	اگر تم کہو کہ ان کا مختلف ہونا ان کے بیچ اور اصل کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہےتو ہم کہیں گے گھٹلی میں تَر خوشے کہاں تھے؟ ایک دانے میں سات بالیں اور پھر ہر بال میں 100 دانے کب تھے؟
جڑی بوٹیوں کے فوائد:
	جنگلوں کی زمین کی طرف دیکھو اور اس کے ظاہر وباطن میں غور کرو تم ایک ہی جیسی مٹی دیکھو گے، جب اس پر پانی اترتا ہے تو وہ تروتازہ  ہو کر بھر آتی ہے اور ہر رونق دار جوڑا اگا لاتی ہے، ان کے رنگ مختلف ہیں کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں مختلف۔ہر ایک کا ایسا رنگ، بو، ذائقہ اور شکل ہے جو دوسرے سے جدا ہے۔اب ان کی کثرت، ان کی قسموں کی کثرت اور ان کی شکلوں کی کثرت کو دیکھو  پھر سبزیوں کے مختلف ذائقوں اور کثیر منافع کی طرف نظر کرو اور دیکھو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جڑی بوٹیوں میں کس قدر نادر منافع رکھے ہیں، یہی نباتات غذابنتے ہیں،قوت دیتے ہیں، زندہ رکھتے ہیں اور جان بھی لے لیتے ہیں۔ یہی جڑی بوٹیاں ٹھنڈا بھی کرتی ہیں اور گرم بھی،کوئی معدے میں جا کر صفراکو جڑوں سے اکھاڑ پھینکتی ہے تو کو ئی وہاں جا کر خود ہی صفرا بن جاتی ہے، ایک خون کو صاف کرتی ہے تو ایک صفرا کی طرف لے جاتی ہے، کوئی بلغم وسَوْدا کا قلع قمع کرتی ہے تو کوئی بلغم بناتی ہے، کسی سے چستی آتی ہے تو کوئی نیند میں مبتلا کر دیتی ہے، کچھ مضبوط