سلطنت کی طرف پرواز کر جاؤ۔
زمینی نشانیاں اور ان میں غور وفکر:
زمین کی نشانیوں میں سے ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے بچھونا بنایا، اس میں کشادہ راہیں رکھیں، زمین کو ہمارے تابع کر دیا تاکہ اس کے راستوں میں چلیں۔زمین کو ساکن رکھا کہ حرکت نہیں کرتی اور پہاڑوں کو اس میں میخیں بنایا کہ زمین کو کانپنے سے روکیں پھر اس کی اطراف کو اتنی وسعت دی کہ اگرچہ عمریں طویل اور چکر کثیر ہی کیوں نہ ہو جائیں آدمی اس کی تمام سمتوں کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے۔
زمین کے متعلق چار فرامین باری تعالٰی:
(1)…وَ السَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾ (پ۲۷،الذٰريٰت: ۴۷، ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھانے والے۔
(2)…ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوۡلًا فَامْشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا (پ۲۹،الملك:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کردی تو اس کے رستوں میں چلو۔
(3)…الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرْضَ فِرَاشًا (پ۱،البقرة:۲۲) ترجمۂ کنز الایمان: اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا۔
(4)…قرآنِ مجید میں کثرت کے ساتھ زمین کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ اس کے عجائبات میں غور وفکر کیا جائے۔ اس کاظاہر زندوں کے ٹھہرنے کی جگہ اور باطن مردوں کی آرام گاہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾ اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾ (پ۲۹،المرسلٰت:۲۵، ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا تمہارے زندوں اور مُردوں کی۔