میرے رب وہ کیسے ؟ارشادفرمایا:”مَرِضَ عَبۡدِیۡ فُلَانٌ فَلَمۡ تَعِدۡہٗ وَ لَوۡ عِدتَّہٗ وَ جَدتَّنِیۡ عِنۡدَہٗیعنی میرا فلاں بندہ بیمار تھا لیکن تم نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے ۔“(1)
مناسبت باطنی کیسے ظاہرہوتی ہے؟
بیان کردہ مناسبت فرائض پر کاربند ہونے کے بعد نوافل پرہمیشگی اختیار کرنے سے ظاہر ہوتی ہے ،جیسا کہ حدیثِ قُدسی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتّٰی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔(2)
احتیاط کا مقام:
یہ وہ مقام ہے جہاں قلم کو لگام میں رکھنا واجب ہے کیونکہ اس وجہ سے لوگوں کے مختلف گروہ بن گئے، کچھ کوتاہ بین ظاہری تشبیہ کی طرف مائل ہوگئےاورکچھ غُلُوکرنے والے مناسبت کی حد سے تجاوز کر کے حلول کے قائل ہوگئے حتّٰی کہ ان میں سے بعض نے ’’اَنَا الْحَق‘‘ کہا(یعنی میں ہی حق ہوں)۔حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی روح اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں عیسائی گمراہ ہوگئے اوروہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کومعبود کہنے لگے اور بعض غُلوکرنے والوں نے کہا کہ ”ناسوت نے لاہوت کا لباس پہن لیا ہے۔“ اور بعض (لاہوت اور ناسوت کے) اتحاد کے قائل ہو گئے ۔
جن پر حقیقی راز کھل گیا:
لیکن جن لوگوں کے سامنے ذاتِ باری تعالٰی کے لئےتشبیہ اور تمثیل نیز اتحاد اور حُلول کا محال ہونا منکَشِف ہوگیا اورساتھ ہی ساتھ ان پر حقیقی راز بھی کھل گیاوہ بہت کم لوگ ہیں۔شایدحضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیشِ نظر یہی مقام تھاجب اس شعر کی وجہ سے آپ پر وجد طاری ہوگیا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل عیادة المریض،ص۱۳۸۹، حدیث:۲۵۶۹،’’موسٰی‘‘بدلہ’’ابن اٰدم‘‘
2…بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع،۴/ ۲۴۸،حدیث:۶۵۰۲