Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
449 - 784
 سے حیرت میں ڈوب جاؤ گے۔ اس شخص پر انتہائی تعجب ہے جو کسی دیوار پر خوبصورت لکیریں یا نقش دیکھ کر انہیں پسند کرنےلگتا ہےاور اپنی تمام تر غور وفکر خَطّاطی اورنقش ونگار کرنے والے  کی طرف مبذول کر لیتا ہے کہ اس نے کس طرح یہ نقش ونگاری کی ہے اور اسے اس پر کس قدر مہارت ہے۔وہ اسےبڑا خیال کرتا رہتا ہے حتّٰی کہ پکار اٹھتا ہے: اس کی ذہانت وفطانت اور فنکاری کتنی کامل ہے! اور اس کی کاریگری کی تو بات ہی کچھ اور ہے!پھر وہ ان عجائب کو اپنے اور غیر کے اندر تلاش کرتا رہتا ہے اور اپنےحقیقی صانع اور مُصَوِّر سے غافل ہو جاتا ہے، اس کی عظمت نہ تو اسے مدہوش کرتی ہے اور نہ ہی اس کی حکمت وجلالت اسے حیران کرتی ہے۔
	یہ تمہارے بدن کے عجائبات کی ایک جھلک تھی جن کا شمار ممکن نہیں۔یہ تیرےغوروفکر کے لئے قریبی کشادہ راہ  اور تیرے خالق عَزَّ  وَجَلَّ کی عظمت پر واضح دلیل ہے جبکہ تیرا حال یہ ہے کہ تواس سے غافل اور اپنے پیٹ اور شرم گاہ میں مشغول ہے۔
جانور سے بھی بدتر:
	تجھے تو بس یہی آتا ہے کہ بھوکا ہوں تو کھالوں، پی کر سو جاؤں، شہوت اُبھرے توہم بستری کر لوں، غصہ آئے تو جھگڑنا شروع کر دوں۔ تیری اس معرفت میں تو جانور بھی تیرے ساتھ ہیں۔ انسان کی خاصیت تو وہ ہے جس سے جانور پردے میں ہیں یعنی زمین و آسمانوں کی بادشاہی اور آفاق ونُفوس میں غور وفکر کر کے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنا کیونکہ اس کے ذریعہ بندہ مُقرَّب فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے اور انبیا وصِدِّیْقِیْن کی جماعت میں اس طرح اٹھایا جاتا ہے کہ مُقرَّبِ بارگاہِ الٰہی ہوتا ہے۔ یہ مرتبہ نہ تو جانوروں کے لئے ہے  اور نہ اس انسان کے لئے جو جانوروں والی صفات کے ساتھ دنیا پر  راضی ہوا بلکہ وہ تو کئی وجوہات کی بنا پر جانوروں سے بھی بدتر ہےکیونکہ جانور کو تو غور وفکر پر قدرت ہی نہیں جبکہ انسان کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ قدرت بخشی پھر انسان نے خود ہی اس کو معطّل کر کے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت کی ناشکری کی لہٰذا ایسا انسان جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہے۔
	جب تم نے اپنے نفس میں غور وفکر کا طریقہ جان لیا ہے تو اب زمین میں غور وفکر کرو جو کہ تمہارا ٹھکانہ ہے، پھر اس کی نہروں، دریاؤں، پہاڑوں اور چھپے ہوئے خزانوں میں غور وفکر کرو اور اس کے بعد آسمانوں کی