Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
448 - 784
  دیکھوکہ کیسے اس نے ماں کے پستان بنائے اور ان میں دودھ کو جمع کیا، ان کے سرے ایسے بنائے کہ بچے کا منہ ان کوسما سکے۔ پھر ان دونوں میں انتہائی باریک سوراخ رکھا حتّٰی کہ مسلسل چوسنے کے بعد ہی ان میں سے  تھوڑا تھوڑا دودھ نکلتا ہےکیونکہ بچہ اتنے ہی کو برداشت کر سکتا ہے۔ پھر دیکھو کہ کیسےبچے کو چوسنے کا طریقہ سکھایا کہ اس تنگ سوراخ سے شدیدبھوک کے وقت کثیر دودھ نکلتا ہے۔ پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اور لُطف وکرم کو دیکھو کہ اس نے دانتوں کی پیدائش کو دو سال کی عمر تک مؤخر رکھا کیونکہ دو سالوں میں اس کی غذا دودھ ہی ہوتی ہے جس کے لئے دانتوں کی ضرورت نہیں۔پھر جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو دودھ کے علاوہ کچھ بھاری غذا کا بھی محتاج ہوتا ہے، کھانا چبانے اور پیسنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی ضرورت کے وقت دانت اُگا دئیے، نہ ضرورت سے پہلے نہ بعد۔ اس کی شان کی تو کیا بات ہے کہ  کیسےاس نے نرم ونازک مسوڑوں سے سخت ہڈیوں کو نکالا ہے۔  پھر والدین کے دلوں میں اس کے لئے نرم گوشہ رکھا کہ جس وقت میں وہ اپنا انتظام کرنے سے عاجز ہے والدین اس  کے لئے اہتمام وتدبیر کرتے ہیں۔اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ والدین کے دلوں میں اس کے لئے شفقت پیدا نہ فرماتا تو یقینا ًبچہ مخلوق میں سب سے زیادہ عاجز و بے بس ہوتا۔ پھر دیکھو کہ کیسے آہستہ آہستہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے طاقت، تمیز، عقل اور ہدایت عطا فرماتا ہے حتّٰی کہ وہ عاقل بالغ ہو جاتا ہے۔ پہلے  سِنِ بلوغ کو پہنچتا ہے پھر نوجوان ہوتا ہے اس کے بعد جوان پھر ادھیڑ عمر اور پھر بوڑھا ہو جاتا ہے پھر یا تووہ ناشکرا ہوتا ہے یا شکر گزار، نافرمان ہوتا ہے یا فرمانبردار، مومن ہوتا ہے یا کافر۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرماتا ہے: ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمْ یَکُنۡ شَیْـًٔا مَّذْکُوۡرًا ﴿۱﴾اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ نَّبْتَلِیۡہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾ اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾ (پ۲۹،الدهر: ۱تا۳)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سےکہ اسے جانچیں تو اُسےسنتا دیکھتا کر دیا بےشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتایا ناشکری کرتا۔
	پہلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےلُطف وکرم اور پھر اس کی قدرت ورحمت کی طرف دیکھو تورب تعالیٰ کے  عجائبات