اگر اسے پھیلا دیا جائے تو جو چاہو اس پر رکھو اور اگر اس کو جمع کر کے مٹھی بنا لو تو مارنے کا آلہ(یعنی مکا) بن جاتا ہے اور اگر نامکمل طور پر ملائیں تو ایک چُلُّو بن جاتا ہے اور اگر انگلیاں سیدھی کر کے آپس میں جوڑ لیں تو بیلچہ بن جاتا ہے۔ پھر دیکھو کہ انگلیوں کی خوبصورتی کے لئے ان کے سروں پر ناخن بنائے،یہ انگلیوں کو کٹنے سے بچانے کا سہارا بھی ہیں اور ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ان کی مدد سے ان باریک چیزوں کو اٹھایا جا سکے جو پوروں سے نہیں اٹھائی جاسکتیں، مزید یہ کہ بوقْتِ ضرورت ان سے بدن کو کھجلایا جا سکے۔ دیکھو !ناخن تمام اعضاء میں سب سے کمتر ہیں اگر یہ انسان کے پاس نہ ہوں اور اسے خارش ہو جائے تو تمام مخلوق ان ناخنوں کا ایسا قائم مقام بنانے سے عاجز آجائے جس سے بدن کو خارش کی جا سکے۔ پھر ہاتھ کو خارش کی جگہ تک پہنچنے کی راہ بھی دکھائی نیند میں ہوچاہے غفلت میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر کسی اور سے مدد لی جائے تو اسے کافی کوشش کے بعد ہی خارش کی جگہ تک رسائی ہو۔
یہ تمام کا تمام اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس نطفہ سے پیدا فرمایا جو رحم کے اندر تین پردوں میں چھپا ہوا ہے۔اگر بالفرض ان پردوں کو ہٹا دیا جائے اور تمہاری آنکھ وہاں تک رسائی حاصل کر لے تو تم دیکھو گے کہ اس کی تصویر خود بنتی چلی جاتی ہے نہ کوئی مُصوّر نظر آتا ہے نہ آلَۂ تصویر۔ اب تم ہی بتاؤ تم نے کبھی ایسا مُصَوِّر یا فاعل دیکھا ہے جو نہ تو آلَۂ صنعت کو چھوئے اورنہ مصنوع کوہاتھ لگائے پھر بھی اس میں اس کا تصرف چلتا رہے؟ اس پاک ذات کی شان کتنی بلند اور دلیل کتنی واضح ہے۔
ماں کےپیٹ سے بڑھاپے تک:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کمالِ قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی وسیع تر رحمت کو دیکھو کہ جب بچے کے بڑا ہوجانے سے رحم تنگ ہو جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کس طرح راستہ دکھاتا ہے حتّٰی کہ بچہ اوندھا ہوتا ہے، حرکت کرتا ہے اور اس تنگ جگہ سے نکلنے کی راہ تلاش کرتا ہے گویا جس چیز کی اسے حاجت ہے وہ اسے جانتا اور دیکھتا ہے۔پھر دیکھو توجب وہ باہرآجاتاہےاور خوراک کا محتاج ہوتا ہےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیسےچھاتی کی طرف اسےراہ دکھاتا ہے؟ پھر جب اس کا کمزور بدن بھاری غذا برداشت نہیں کر سکتا تو کیسے نرم ولطیف دودھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے تیار فرماتا ہے اور اسے غلاظت وخون کے درمیان سے خالص صاف ستھرا باہر نکالتا ہے۔