اور شکل کو خوبصورت کیا تا کہ منہ پر بھلے لگیں، منہ کے مَنْفَذ(سُوراخ) کو بند کریں اور کلام کے حروف ان کے سبب مکمل ہو جائیں۔اس نے گلے کی نالی پیدا فرما کر اسے آواز نکالنے کے لئے تیار کیا، زبان میں حرکت کی قوت رکھی تاکہ وہ آواز کو کاٹے جس کے سبب حروف مختلف مخارج سے نکلیں اور کثرتِ حروف کے باوجود بولنے میں کوئی دِقَّت نہ ہو۔ پھر تنگی، کشادگی، سختی، نرمی ، لمبائی اور چھوٹائی کے اعتبار سے نَرخوں کو مختلف شکلوں پر پیدا کیاتاکہ ان کے اختلاف سے آوازیں مختلف رہیں۔ دیکھو کہ دو آوازیں ایک جیسی نہیں ہوتیں بلکہ ہر دو آوازوں میں فرق واضح ہوتا ہے حتّٰی کہ سننے والا اندھیرے میں لوگوں کی آواز ہی سے ان کی پہچان کر لیتا ہے۔ پھر اس ذات نے سر کو بالوں اور کنپٹیوں سے آراستہ کیا، چہرے کو داڑھی اور ابرؤوں سے زینت بخشی، ابرؤوں کو کمانی شکل باریک بالوں سے خوبصورتی دی اور آنکھوں کو پلکوں کی جھالر سے دلنشین کیا۔
باطنی اعضاء میں حکمتیں:
دیکھو کہ اس نے باطنی اعضا ء پیدا فرمائے اور ہر ایک کو مخصوص فعل کے لئے مسخر کر دیا۔ معدہ غذا پکانے کے لئے مسخر کیا، جگر کے ذمے غذا کو خون میں بدلنے کا کام لگا دیا جبکہ تلی، پتے اور گردوں کو جگر کا خادم بنایا۔ تلی جگر سے سودا کوکھینچ کر اس کی خدمت کرتی ہے، پِتّا صفرا کو دور کر کے خدمت بجا لاتا ہے اور گردے جگر سےرطوبت دور کر کے اس کی خدمت کرتے ہیں۔ مثانہ گردوں کی خدمت کرتا ہے کہ ان میں پانی جمع نہیں ہونے دیتا، پھر اسے پیشاب گاہ کے راستے باہر نکال دیتا ہےاور رگیں تمام جگر سے پورے جسم میں خون پہنچا کر اپنی ڈیوٹی دیتی ہیں۔
ہاتھوں،انگلیوں اور ناخنوں کی بناوٹ میں حکمتیں:
ہاتھوں کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پیدا فرمایا اور ان کو لمبا کیا تاکہ مقاصد کی طرف بڑھ سکیں، ساتھ ہی ہتھیلی کو چوڑائی دی اور پانچ انگلیوں میں تقسیم کر دیا حتّٰی کہ ہر انگلی کو تین تین پورےدئیے، چار انگلیوں کو ایک طرف اور انگوٹھے کو اکیلے رکھا تاکہ ان چاروں پر گھوم سکے۔ اگر تمام اگلے پچھلے جمع ہو کر نہایت غورو فکر کے ذریعےکوئی دوسری صورت نکالنا چاہیں کہ انگوٹھے کو چاروں انگلیوں کے ساتھ ملا دیں اور انگلیوں میں فرق بھی ملحوظ رکھیں تو ایسا ہرگز نہیں کرسکیں گے کیونکہ موجودہ ترتیب پر ہاتھ لینے دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور