خالق کوئی دوسرا ہے۔ مُصوّر کا تو صرف اتنا کام ہے کہ اس نے رنگ اور دیوار کو ایک مخصوص ترتیب پر جمع کر دیااور تم اس پر تعجب کرتے ہو اور اسے بڑا سمجھتے ہوجبکہ تم اس ناپاک پانی کی بوند کو دیکھو جو کبھی تھی ہی نہیں خالق حقیقی نے پیٹھوں اور سینوں میں اسے پیدا کیا پھر ان سے نکالا اور نہایت ہی اچھی شکل دی، بہترین صورت اورمناسب مقدار پر رکھا، اس کے ملتے جلتے اجزا کو مختلف اجزا میں تقسیم کیا پھر ان میں مضبوط ہڈیاں بنائیں، اعضاء کو اچھی شکل پر ڈھالا، ظاہر وباطن کو اچھا کیا، رگوں و پٹھوں کو ترتیب دی اور انہیں غذا کا راستہ بنایا تاکہ جسم باقی رہ سکےاور اعضاء کو سننے، دیکھنے، جاننے اور بولنے کی قوت عطا فرمائی، پیٹھ کو بدن کی بنیاد اور پیٹ کو تمام غذاؤں کا مرکز اور سر کو حواس کا جامع بنایا، آنکھوں کو کھولا اور ان کے طبقوں کو ترتیب دیا، ان کے رنگ اور شکل وصورت کو اچھا کیا، پھر ان کو ڈھانپنے، حفاظت کرنے اور گرد وغبار سے بچانےکے لئےدو پپوٹے بنائے پھر تل برابرشیشے میں آسمانوں کو باوجود وسعت اور دوری کے آنکھوں میں سما دیا کہ انسان ان کو دیکھتا ہے۔
کان کی بناوٹ اور اس میں حکمت:
کانوں میں دو سوراخ بنائے اور ان میں تلخ پانی رکھا تاکہ سماعت کی حفاظت ہو اور کیڑے مکوڑے اندر نہ جائیں، کان کے گرد سیپ کی شکل میں پردہ رکھا کہ آواز وہاں جمع ہو کر پھر سوراخ کی طرف بڑھے حتّٰی کہ کیڑے کے چلنے کی آہٹ بھی محسوس ہوجائے، کان میں اونچ نِیْچ اورٹیڑھا پن رکھا تاکہ اندر داخل ہونے والے کیڑے کا راستہ طویل اور حرکت زیادہ ہو کہ نیند کی حالت میں بھی اس پر خبر ہو جائے۔
منہ ،ناک اور دانتوں وغیرہ کی حکیمانہ تخلیق:
چہرے کے درمیان ایک خوبصورت ناک اٹھائی ، اس کے دونوں نتھنوں کو کھولا اور اس میں سونگھنے کی حس رکھی تاکہ بو کو سونگھ کر بندہ اپنےکھانے پینے کی اشیاء کو جان سکے۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ ان نتھنوں کے راستے دل کی غذا ہوا اندر اخل ہو اور باطنی حرارت کو راحت ملے۔ منہ کو کھولا اور اس میں بولنے، تَرجُمانی کرنے اور دل کی بات بیان کرنے کے لئے زبان رکھی نیز منہ کو موتیوں جیسے دانتوں سے زینت بخشی تاکہ کاٹنے، پیسنے اور توڑنے کا کام دیں۔ ان کی جڑوں کو مضبوط ،سروں کو تیز اور رنگ کو سفید بنایا۔ سب کے سر برابر رکھ کر ان کی صفوں کو ترتیب دیا گویا لڑی میں پروئے موتی ہوں۔ہونٹوں کو پیدا کر کے ان کے رنگ