ظاہری جسم کے عجائبات ہیں جبکہ وہ معانی اورصفات جن کا ادراک حواس سے نہیں ہو سکتا اس سے بڑھ کر ہیں۔ اب تم ان کے ظاہر وباطن اور بدن وصفات کی طرف دیکھو تو تمہیں ایسے عجائب نظر آئیں گے جو تعجب میں ڈال دیں گے۔یہ سب کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پانی کے ایک ناپاک قطرے سے بنایا ہے۔
مقامِ غور وفکر:
اب پانی کے اس قطرے کی صنعت سے آگے بڑھو اور دیکھو کہ آسمانوں اور ستاروں کی سلطنت میں اس کی صنعت کا عالَم کیا ہوگا؟ پھر ان کی شکل، مقدار، تعداداوربعض کا اکٹھا ہونے، بعض کا جدا جدا ہونے، صورتیں مختلف ہونے اور مشرق ومغرب کے اختلاف میں اس کی کیا حکمت ہے؟ تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ آسمانوں کی بادشاہی میں سے ایک ذرّہ بھی حکمت یا حکمتوں سے خالی ہوگا بلکہ یہ عظیم تخلیق حکمت سے بنائی گئی ہے اور انسانی بدن سے زیادہ عجائبات کی حامل ہے بلکہ زمین میں جو کچھ ہے اسے آسمانوں کے عجائبات سے کوئی نسبت نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ءَاَنۡتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰىہَا ﴿ٝ۲۷﴾ رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰىہَا ﴿ۙ۲۸﴾ وَ اَغْطَشَ لَیۡلَہَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىہَا ﴿۪۲۹﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۲۷، ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کیاتمہاری سمجھ کےمطابق تمہارابنانا مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی۔
اب تم اس نطفہ کی طرف رجوع کرو اس کی پہلی حالت میں غور وفکرکرو پھر دوسری حالت کی طرف دیکھو اور سوچو کہ تمام جنات وانسان اگر اس نطفہ کے لئے کان، آنکھ، عقل، قدرت، علم، روح، ہڈیاں، رگیں، پٹھے، کھال یا بال بنانے کے لئے جمع ہو جائیں تو کیا وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں؟ بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیدا کرنے کے بعد بھی اگر وہ اس نطفے کی حقیقت اورپیدا کرنے کی کیفیت جاننے کا ارادہ کریں تو اس سے بھی عاجز ہیں۔ تم پر تعجب ہے کہ اگر تم دیوار پر بنی ہوئی انسانی تصویر کی طرف دیکھو جس میں مُصَوِّر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے تو تم کہو گے یہ تو بالکل انسان کی طرح ہےیوں مُصوّر کی مُصوَّری، کاریگری اور ہاتھ کی صفائی پر تمہیں بڑا تعجب ہو گا اور تمہارے دل میں اس کا ایک مقام بن جائے گا حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ تصویر رنگ، قلم، ہاتھ، دیوار، قدرت اور علم وارادے وغیرہ سے مکمل ہوئی ہے اور ان میں سے کسی چیز کومُصوّر نے پیدا نہیں کیا بلکہ ان کا