Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
443 - 784
 یہ بھی تین اجز پر مشتمل ہے۔ پھر پیٹھ کی ہڈیوں کو سینے، کہنیوں، ہاتھوں، رانوں، پنڈلیوں اور پاؤں کی انگلیوں  سے ملا دیا۔ ہم ان سب کو ذکر کر کے کلام طویل نہیں کرنا چاہتے۔
	المختصر  یہ کہ انسانی جسم میں ہڈیوں کی تعداد 248ہے، ان میں وہ چھوٹی ہڈیاں شامل نہیں ہیں جن سے جوڑوں کو ملایا گیا ہے۔ اب غور کرو کہ کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نرم اور پتلے نطفہ سے ان تمام کو پیدا فرمایا۔ اس تمام بحث سے ہمارا مقصد ہڈیوں کی گنتی یاد کروانا نہیں ہےکیونکہ یہ تو ایک آسان سا علم ہے جسے اَطِبّا اور جسمانی اعضاء کی وضاحت کرنے والے  جانتے ہیں، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے ان کے خالق ومُدَبِّر کی طرف نظر کی جائے کہ کس طرح اس نے ان کی تخلیق وتدبیر فرمائی اور کیسے ان کی شکلوں اور مقداروں کی مابین فرق رکھااور ان کو ایک مخصوص تعداد میں خاص کیا کیونکہ اگر وہ ان پر ایک بھی زیادہ کر دیتا تو یقینا ًیہ انسان پر ایسی مصیبت بن جاتا جسے اُکھاڑ پھینکنے پر انسان مجبور ہو جاتا اور اگر وہ ان میں کسی ایک ہڈی کوبھی کم کر دیتا تو انسان اس کمی کو پورا کرنے کا محتاج ہو جاتا حتّٰی کہ طبیب اس میں اس لئےغور وفکر کرتا کہ اس کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟اور اہل نظر اسے اس لئے دیکھتے تاکہ اس کے ذریعےمُصَوِّر وخالق کی عظمت وبُزرگی کی طرف راہنمائی حاصل کریں۔ آہ!ان دو نظروں میں کیسا اختلاف ہے۔
پٹھے بنانے کی حکمت:
	دیکھو کہ کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ہڈیوں کو حرکت دینے کے لئے آلات بنائے ہیں جنہیں پٹھے کہتے ہیں۔ خالق عَزَّ  وَجَلَّ نے انسانی جسم میں 529 پٹھے پیدا کئے ہیں،ہر پٹھہ گوشت، جوڑ، ریشوں اور جِھلِّیوں سے مل کر بنا ہے، ہر جگہ کی ضرورت ومناسبت کے لحاظ سے ان کو مختلف شکلیں اور مختلف مقداریں دی گئی ہیں۔ چوبیس پٹھے تو صرف آنکھوں کے حلقے اور ان کی پُتْلِیوں کو حرکت دینے کے لئے ہیں اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو جائے تو آنکھ کا نظام بےکار ہوجائے۔یونہی ہر عضو کے لئے مخصوص مقدار اور مخصوص تعداد کے پٹھے ہیں۔ پٹھوں، رگوں، شریانوں اور ان کی تعدادنیز  ان کے بڑھنے اور پھیلنےکی جگہوں کا مُعاملہ اس تمام سے زیادہ عجیب تر ہےجن کی تفصیل بہت طویل ہے۔
	ہر جز میں پھر ہر عضو میں اور پھر پورے بدن میں غوروفکر کرنے کے لئے وسیع میدان ہے۔ یہ تمام تو