بنایا پھر دیکھو کہ ان کی مختلف مقداریں اور مختلف شکلیں رکھیں، بعض چھوٹی ہیں بعض بڑی، کچھ لمبی ہیں توکچھ گول، کوئی کھوکھلی ہے تو کوئی ٹھوس اور کوئی چوڑی ہے تو کوئی پتلی۔
جسمانی جوڑوں میں حکمت:
اب جبکہ انسان اپنے تمام بدن یا بعض اعضاء کے ساتھ اپنی حاجات کے لئے ادھر اُدھر حرکت کا محتاج ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی ایک ہی ہڈی نہیں بنائی بلکہ کثیر ہڈیاں بنائی ہیں جن کا آپس میں جوڑ ہے تاکہ اس کے سبب حرکت کرنا آسان ہو اور ان میں سے ہر ایک کو مطلوبہ حرکت کے مطابق شکل دی پھر ان کے جوڑوں کو آپس میں ملایا ۔اس کا طریقہ یوں رکھا کہ ایک ہڈی کے کنارے سے ریشے نکلتے ہیں جو دوسری ہڈی کے ساتھ جا ملتے ہیں گویاکسی چیز کو باندھا گیا ہو۔ پھر ہڈی کی ایک جانب کچھ باہر کو زائد رکھی اور دوسری ہڈی میں اس زائد کے موافق ایک گڑھا بنایا تاکہ وہ زائد اس میں داخل ہو کر مل جائے۔تو اب انسان ایسا ہو گیا کہ جب وہ جسم کے کسی حصے کو حرکت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی رکاوٹ ودُشواری نہیں ہوتی۔ اگر یہ جوڑ نہ ہوتے توانسان کے لئے یہ ضرور مشکل ہو جاتا۔
ہڈیوں کی تعداد اور ان کو جوڑنے کا مرحلہ:
یہ دیکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح سر کو پیدا فرمایا؟ کس طرح اسے جمع کیا اورہڈیوں کو آپس میں جوڑا؟اس نے سر کو 55ہڈیوں کا مرکب بنایا، ان تمام کی شکلیں الگ الگ ہیں، اس نے ان کو آپس میں ایسے ملایا کہ ٹھیک گول سر بن گیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ان میں سے چھ ہڈیاں کھوپڑی کے لئے خاص ہیں، چودہ ہڈیاں اوپر والے جبڑے کی ہیں اور دو ہڈیاں نیچے والے جبڑے میں رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ باقی دانت ہیں جن میں سے کچھ چوڑے ہیں جو پیسنے کے کام آتے ہیں اور کچھ تیز ہیں جو کاٹنے کا کام دیتے ہیں۔پھر گردن کو سر کی سواری بنایا اور سات گول خول دار مَنکوں(یعنی مُہروں) سے اسے مرکب کیا، ان میں کچھ گھٹاؤ بڑھاؤ ہے تاکہ ایک دوسرے سے جڑ سکیں، اس میں حکمت کی وجہ کاذکر کافی طویل ہے۔
پھر گردن کو پیٹھ اور پیٹھ کو گردن کے نچلے حصے سے سرین کی ہڈی تک چوبیس منکوں سے مرکب کیا اور سرین کی ہڈی کو تین مختلف اجزا سے مرکب کیا،سرین کی ہڈی ریڑھ کی ہڈی کی نچلی طرف سے متصل ہے اور