الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ (پ ۱۸،المؤمنون:۱۲ تا۱۴) پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر اُن ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اُٹھان دی۔
اپنی ذات میں غور وفکر:
قرآن مجید میں بار بار لفظِ نطفہ (مادۂ منویہ) کی تکرار کا یہ مطلب نہیں کہ اس لفظ کو سنا یاجائے اور اس کے معنیٰ میں غور وفکر کو چھوڑ دیا جائے بلکہ غور کرنا چاہئے کہ نطفہ پانی کا ایک ناپاک قطرہ ہے اگر ایک لمحہ کے لئے بھی چھوڑ دیا کہ اسے ہوا لگے تو خراب وبدبودار ہوجائے گا۔ تو سوچو! کس طرح رب تعالیٰ نے اسے مَردوں کی پیٹھوں اور عورتوں کے سینوں سے نکالا؟ کس طرح مرد وعورت کو جمع فرما کر ان کے دلوں میں محبت ڈالی؟ کس طرح محبت و شہوت کے سلسلے میں ان کو جمع فرمایا؟کس طرح ہم بستری کے سبب مرد سے نطفہ کا خروج کیا؟کس طرح باریک رَگوں سے حیض کے خون کو کھینچ کر عورت کےرِحم میں جمع فرمایا؟ پھر کس طرح بچے کو نطفہ سے تخلیق فرما کر حیض کے خون کو اس کی خوراک بنایاحتّٰی کہ وہ بڑھتے بڑھتے بڑا ہوگیا؟پھر اس میں غوروفکر کرو کہ کس طرح سفید چمکتے نطفہ کوخون کی سرخ پھٹک کیا؟ پھر کیسے اس کو گوشت کا لوتھڑاکیا؟ کس طرح اس نطفہ کو ہڈیوں، پٹھوں، رگوں، ریشوں اور گوشت میں تقسیم کیا حالانکہ نطفہ کے اجزاتو ایک ہی جیسے تھے؟ پھر کس طرح گوشت، پٹھوں اور رگوں سے ظاہری اعضاء یعنی سَرکی گولائی،آنکھ ، کان، ناک، منہ اور دیگرسوراخوں کو ترتیب دیااور ہاتھ پاؤں کولمبائی دی نیز ان کے سروں کو انگلیوں میں اور انگلیوں کو پوروں میں تقسیم فرمایا؟
پھر غور وفکر کرو کہ کس طرح اس نے باطنی اعضاء یعنی دل، کلیجہ، معدہ، جگر، تلی ، پھیپھڑے،رِحم ومثانہ اور آنتوں کو ترتیب دیا؟ ہر ایک کی مخصوص شکل، مخصوص مقدار اور ہرایک کا مخصوص کام ہے۔ پھر دیکھو کیسے ان اعضاء میں سے ہر عضو کو دوسری کئی اقسام میں تقسیم فرمایا؟اس نےآنکھ کو سات طبقات سے مرکب کیا، ہر طبقہ کی مخصوص صورت اور مخصوص صفت ہے اگر ان سات میں سے ایک طبقہ یا ایک صفت زائل ہو جائے تو آنکھ دیکھنے سے محروم ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ان میں سے کسی ایک عضو کے عجائب وکمالات کا وصف بیان کرنا شروع کردیں تو تمام عمر اسی میں بیت جائے۔ پھر ہڈیوں کو دیکھو کہ سخت اور مضبوط ہیں اور کس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ نےان کو نرم اور پتلے مادۂ منویہ سے پیدا فرمایا ہے؟ پھر ان کوبدن کے لئے سہارا وستون