Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
44 - 784
زیادہ واضح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان عالیشان ہے:
فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ (پ۱۴،الحجر:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو جب میں اسے ٹھیک کر لوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونک لوں۔
	اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں سے انہیں سجدہ کروایاجیساکہ اس آیتِ مُبارَکہ میں یہ اشارہ ہے:
اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الْاَرْضِ (پ۲۳،ص:۲۶)		ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا۔
کیونکہ حضرتِ سیِّدُناآدم صَفِیُّ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماسی مناسبت کی وجہ سے خلیفۃ ُاللہ بننے کے مستحق ہوئے اور حدیثِ پاک میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے:”اِنَّ اللّٰہ خَلَقَ اٰدَمَ عَلٰی صُوۡرَتِہٖ(1) یعنی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی  صورت پر پیدا کیا(2)۔“اور کوتاہ بینوں نے اس سے یہ سمجھا کہ صورت تو ظاہری ہی ہوتی ہے جس کا حواس سے ادراک کیا جاتا ہے  تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئےتشبیہ ،جسم اور صورت کے قائل ہوگئے۔ تَعَالَی اللّٰہُ رَبُّ الۡعَالَمِیۡنَ عَمَّا یَقُوۡلُ الۡجَاھِلُوۡن (یعنی تمام جہانوں کا پروردگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ جاہلوں کے اس قول سے بہت بلند ہے)
	اور اسی مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرتِ سیِّدُناموسیٰکلیمُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا تھا:’’مَرِضۡتُ فَلَمۡ تَعِدۡنِیۡ یعنی میں بیمار ہوا تم نے میری عیادت نہیں کی۔“انہوں نے عرض کی:اے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…(۲۸)…مسلم، کتاب البر والصلة، باب النھی عن ضرب الوجہ،ص۱۴۰۸،حدیث:۲۶۱۲
2…مفسرِ شہیر،حکیْمُ الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃُ المناجیح،جلد6، صفحہ312پر اس کے تحت فرماتے ہیں: اس جملہ کی چار شرحیں ہیں صورت بمعنی ہیئت وشکل ہے یا بمعنی صفت۔اور ضمیر کا مرجع یا آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں یا اللہ تعالیٰ لہٰذا اس جملے کے چار معنیٰ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آدمعَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی شکل وہیئت پر پیدا فرمایا کہ جس شکل میں انہیں رہنا تھا انہیں اوّل ہی سے وہ شکل دی دوسروں کی طرح نہ کیا کہ پہلے بچہ پھر جوان پھر بڈھا وغیرہ یااللہ(عَزَّوَجَلَّ)نے حضرت آدم(عَلَیْہِ السَّلَام) کو ان کی صفت پر پیدا کیا کہ وہ اوّل ہی سے عالِم، عاقل، عامل، عارف، سمیع وبصیر وغیرہ تھے دوسروں کی طرح نہیں کہ وہ جاہل پیدا ہوتے ہیں پھر بعد میں ہوش، علم، عقل وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔ یا اللہ(عَزَّوَجَلَّ) نے حضرت آدم(عَلَیْہِ السَّلَام) کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا، خود فرماتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ (پ۳۰،التين:۴،ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔) اس لئے کوئی شخص دوزخ میں شکْلِ انسانی سے نہ جاوے گا کہ یہ شکْلِ خدا کو پیاری ہے۔ یا اللہ(عَزَّوَجَلَّ) نے حضرت آدم(عَلَیْہِ السَّلَام) کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا کہ انہیں اپنا علم، اپنا تصرف، اپنی سمع، اپنی بصر، اپنی قدرت وغیرہ بخشی۔