Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
439 - 784
 	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے: اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلٰفِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔
	اور فرماتاہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِہٖۤ (پ۲۱،الروم:۲۰)	ترجمۂ کنز الایمان: اور اس كی نشانیوں سے ہے۔
انسانی وجود میں قدرت كی نشانياں:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نشانیوں سے ہے کہ  انسان پانی کی بوند سے پیدا ہوا اور تیرے سب سے زیادہ نزدیک تیرا نفس ہے اور خود تیری ذات میں ایسے عجائبات ہیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ تمام عُمْر گزر جائے پھر بھی ان میں سے ایک فیصد پر واقفیت نہیں ہو سکتی اور حال یہ ہے کہ تو ان سے غافل ہے۔اے اپنے آپ سے غافل وجاہل شخص! پھرتو کیسے غیر کی معرفت کی طمع کرتا ہے؟جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی کتابِ عزیز میں تجھے تیری ہی ذات میں غوروفکر  کا حکم فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا  ارشاد ہے:
تخلیق ِانسانی پرآٹھ  فرامین باری تعالٰی:
(1)…وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ (پ۲۶،الذٰريٰت:۲۱)	 ترجمۂ کنز الایمان:اورخود تم مىں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔
(2)…اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یاد دلایا کہ تم ناپاک پانی کی بوند سے پیدا کئے گئے ہو۔ چنانچہ فرماتا ہے: قُتِلَ الْاِنۡسَانُ مَاۤ اَکْفَرَہٗ ﴿ؕ۱۷﴾ مِنْ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ۱۸﴾ مِنۡ نُّطْفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۙ﴿۱۹﴾ ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ۙ﴿۲۰﴾ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾ (پ۳۰،عبس:۱۷ تا۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:آدمی مارا جائیو کیا ناشکرہےاسے کاہے سے بنایا پانی کی بوند سےاسے پیدا فرمایا پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا پھر اسے راستہ آسان کیا پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوا یا پھر  جب چاہااسے باہر نکالا۔