Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
438 - 784
 الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۶﴾ (پ۲۳،يٰسٓ:۳۶)
بنائے ان چیزوں سے جنھیں زمین اگاتی ہےاور خود ان سے اور ان چیزوں سےجن کی انھیں خبر نہیں۔
	مزيد فرماتا ہے:
وَ نُنۡشِئَکُمْ فِیۡ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾ (پ۲۷،الواقعة:۶۱)    ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں خبر نہیں۔
٭…جن موجودات کی اصل کا ہمیں اجمالاً علم ہے لیکن تفصیل معلوم نہیں ان کی تفصیل جاننے کے بارے میں غور وفکر کرنا ممکن ہے۔پھر ان موجودات میں کچھ کو تو ہم آنکھ کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں اور کچھ کو نہیں۔ جنہیں نہیں دیکھ سکتے وہ فرشتے، جن، شَیاطین اور عرش وکرسی وغیرہ ہیں۔ان میں غوروفکر کا میدان انتہائی تنگ اور گہرا ہے۔لہٰذا ہم ان موجودات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو عقلوں کے زیادہ قریب اور آنکھوں سے دیکھے جاسکتے ہیں یعنی ساتوں آسمان، زمین اور جو کچھ آسمان وزمین کے درمیان ہے۔ آسمانوں کا مشاہدہ تو سورج، چاند، ستاروں، طلوع وغروب اور ان کی حرکت و دورانیے سے ہوتا ہے۔ زمین کا مشاہدہ اس میں موجود پہاڑوں، خزانوں، نہروں، سمندروں اور حیوانات ونباتات کے ذریعے ہوتا ہے اور آسمان وزمین کے درمیان فضا ہے جس کا ادراک بادل، بارش، برف، بجلی اور ہوا وغیرہ کے ذریعے ہوتا ہے۔ آسمان و زمین اور ان کے مابین یہ تمام اجناس ہیں اور ہر جنس نوع کی طرف تقسیم ہوتی ہے پھر ہر نوع کی مزید قسمیں بنتی ہیں اور ہر قسم سے مختلف صفات نکلتی ہیں، مختلف صفات و صورتوں اور ظاہری وباطنی معانی کی طرف ان اجناس کی تقسیم کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ تمام غوروفکر کی راہیں ہیں۔
زمین وآسمان میں رب تعالٰی کی نشانیاں ہیں:
	آسمانوں اور زمین کے جمادات ،نباتات وحیوانات اور چاند ستاروں وغیرہ میں سے کوئی ذرّہ حرکت کرتا ہے تو اسے حرکت دینے والی ذات صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہے۔ اس حرکت میں ایک یا دو یا دس یا ہزار حکمتیں ہوتی ہیں۔ تمام کی تمام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی وَحدانیت پر شاہد اور اس کی جلالت وکبریائی اور  وجود پر دلالت کرتی ہیں۔ قرآن مجید ان نشانیوں میں غور وفکر پر اُبھارتا ہے۔