Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
437 - 784
 روشن ہونا چمکنے والے سورج کے سبب ہے۔سورج کو اگر دیکھنا ہو تو اس کا طریقَۂ کار یہ ہے کہ پانی کا ایک طشت رکھ دیا جائے اب اس میں سورج کو دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے تو پانی ایک واسطہ بن گیا جس نے سورج کی روشنی کو قدرے کم کر دیا حتّٰی کہ اسے دیکھنا آسان ہو گیا۔ اسی طرح افعال واسطہ ہوتے ہیں جن میں ہم فاعل کی صفات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور افعال کے واسطے سے جب ہم پر ذات کے انوار ظاہر ہوتے ہیں تو ہم انوارِ ذات سے حیران نہیں ہوتے۔حضورِ اکرم،نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات میں غوروفکر نہ کرو۔“(1) میں یہی راز ہے۔
باب نمبر2:		مخلوقِ خدا میں غور وفکر کی کیفیت
	جان لیجئے! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا ہر شے کا وجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فعل اور اس کا تخلیق کردہ  ہے۔ کائنات کا ہرذرّہ چاہے وہ جوہر ہو، عرض ہو، صفت ہو یا موصوف،ہر ایک میں ایسے ایسے عجائب ہیں جن سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حکمت وقدرت اور جلالت وعظمت کا ظہور ہوتا ہے۔ ان کو شمار کرنا ناممکن ہے کیونکہ اگر سمندر بھی ان کے لئے سیاہی ہو جائے تو ان کا عَشْرِ عشیر شمار ہونےسے قبل ہی سمندر ختم ہو جائے گا، پھر بھی ہم یہاں چند عجائبات کی طرف اشارہ کرتے ہیں تاکہ انہیں باقی کے لئے مثال  قرار دیا جاسکے۔
موجودات کی اقسام:
	موجودات کی دو قسمیں ہیں:(۱)… وہ موجودات جن کی اصل ہمیں معلوم نہیں اور(۲)… وہ موجودات جن کی اصل معلوم ہے اور ہم انہیں اجمالاً جانتے ہیں۔
٭… جن موجودات کی اصل معلوم نہیں ان میں غور وفکر کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ کتنے ہی موجودات ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸﴾ (پ۱۴،النحل:۸)		ترجمۂ کنز الایمان:اوروه پیدا کرے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔
	اور فرماتا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیۡ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ		ترجمۂ کنز الایمان: پاکی ہے اسے جس نے سب جوڑے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکر فی اٰیات اللّٰہ، ص۱۸، حدیث:۴