ہیں نہ ہاتھ اور نہ پاؤں اور نہ ہی وہ اُڑ سکتا ہے تو ضرور وہ بھی اس کے وجود کا انکار کر دیتی اور کہتی:” میرا خالق مجھ سے کمتر کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا اس کے پر کٹے ہوئے ہیں یا شل ہو گئے ہیں کہ وہ اُڑ نہیں سکتایا پھر میرے پاس جو قدرت وآلہ ہےاس کے پاس نہیں حالانکہ وہ تومیرا خالق ومصوِّر ہے؟“ اکثر لوگوں کی عقلوں کا یہی حال ہے۔ بے شک انسان بڑا نادان،ظالم اور ناشکرا ہے، اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنےانبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے بندوں کو میری صفات کی خبرنہ دو کیونکہ وہ میرا انکار کر بیٹھیں گے بلکہ انہیں میرے متعلق وہ کہو جووہ سمجھ سکیں۔
جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات میں نظر کرنا خطرے سے خالی نہیں توادبِ شریعت اور اصلاحِ خلق کاتقاضایہی ہے کہ اس میں غوروفکر کی راہوں کے در پے نہ ہوا جائے لہٰذا ہم دوسرے مقام کا رُخ کرتے ہیں۔
دوسرا مقام:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے افعال اور اس کی صنعت کے عجائبات میں غور وفکر کرنا۔
چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت وصنعت کے عجائبات اس کی جلالت وکبریائی اور پاکی وبلندی پر دلالت کرتے ہیں اور اس کے کمالِ علم وحکمت اور قدرت ومشیت کے نفاذ پر بھی دلالت کرتے ہیں لہٰذا چاہئے کہ رب تعالیٰ کی صفات کی طرف اس کی صفات کے آثار کے ذریعے نظر کی جائے کیونکہ ہم بلاواسطہ اس کی صفات کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم سورج کی بھرپور روشنی کے وقت زمین کو بھی براہِ راست نہیں دیکھ سکتے اور چاند ستاروں کی روشنی کے مقابلے میں سورج کی روشنی کے زیادہ ہونے پر ہم اسی بات سے دلیل پکڑتے ہیں کیونکہ زمین کا روشن ہونا سورج کی روشنی کے آثار میں سے ہے اور آثار کی طرف نظر کرنے سے مؤثر تک راہنمائی ہوہی جاتی ہے چاہے کسی بھی صورت ہو اگرچہ مؤثر کو براہِ راست دیکھنے جیسی نہیں ہوتی۔ دنیا کے تمام موجودات قدرتِ الٰہی کے آثار میں سے ایک اثر اور اس کی ذات کے انوار میں سے کچھ نور ہیں اور عدم سے بڑھ کر کوئی تاریکی نہیں اور نہ وجود سے بڑھ کر کوئی نور ہے اور تمام اشیاء کا وجود اس بلند وپاک ذات کے انوار کا ایک نور ہے کیونکہ تمام اشیاء کا قیام اس قَیُّوم ذات ہی کے سبب ہے جیسا کہ (دن میں دھوپ کے وقت) اشیاء کا