علاوہ صِدِّیْقِیْن کی نگاہوں کے کسی کو اس تک رسائی کی طاقت نہیں اور صدیقین بھی دائمی نگاہ کی طاقت نہیں رکھتے۔ تمام مخلوق کا جلالِ الٰہی کی طرف نظر کرنا ایسے ہے جیسے چمگادڑ کا سورج کی روشنی دیکھنا حالانکہ یہ بات یقینی ہے کہ وہ سورج کی روشنی نہیں دیکھ سکتی بلکہ دن میں چھپی رہتی ہے اور رات کے وقت زمین پر باقی رہنے والی سورج کی روشنی میں (یعنی غروب آفتاب کے وقت) نکلتی اور گھومتی ہے۔ صدیقین کا حال اس شخص کی طرح ہے جو سورج کی طرف نظر کرتا ہے، یقیناً وہ نظر کرنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اس پر نظر جما نہیں سکتااورنظر جمانے کی صورت میں نابینا ہونے کے خطرے سے دوچار رہتا ہےبلکہ بار بار نظر اٹھا کر دیکھنا بھی چندھیاہٹ اور نظر کمزور ہونے کا سبب ہے۔یونہی ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف نظر کرنا حیرت اور عقل میں ہیجان واضطراب پیدا کرتا ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات میں غوروفکر کی راہوں پر قدم نہ رکھا جائے کیونکہ اکثر عقلیں اس کی طاقت نہیں رکھتیں بلکہ قدرے آسان بات وہ ہے جس کی بعض علما نے تصریح فرمائی ہے کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ جہت ومکان سے پاک ہے، نہ وہ کائنات میں داخل ہے نہ اس سے خارِج، نہ اس سے ملا ہوا ہے نہ جدا۔ بعض لوگوں کی عقلیں اس قدر حیران ہوئیں کہ انہوں نے ذاتِ باری تعالیٰ کا انکار ہی کر دیا کیونکہ ان میں اسے سننے اور سمجھنے کی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک گروہ تو اس سے ہلکی بات بھی برادشت نہ کر سکا، جب ان سے کہا گیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہاتھ، پاؤں، سر، آنکھوں اور دیگر اعضا ءسے پاک ہے اور وہ ایسے جسم سے بھی پاک ہے جس کا کوئی وزن ومقدار ہو تو انہوں نے اس کا بھی انکار کر دیا اور سمجھے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت وجلالت میں عیب ہے حتّٰی کہ عوام میں سے ایک بے وقوف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ تو ہندی تَربوز کی صفت ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نہیں۔ اس بے عقل کو عظمت وجلالت اعضاء ہی میں نظر آئی۔
اس کاسبب یہ ہے کہ انسان محض خود کو جانتا اور خود ہی کو عظیم تصور کرتا ہے نتیجۃً جس چیز کی صفات اس کے برابر نہیں ہوتیں اس میں کوئی بڑائی نہیں سمجھتا۔انسان (کی سوچ) کا بلند ترین درجہ یہ ہے کہ ”انسان خود کوحسین صورت اور تخت پر بیٹھا ہوا خیال کرے اس طرح کہ اس کے سامنے خُدّام حکم کی تعمیل کے لئے سر جھکائے کھڑے ہوں“ اس طرح یقیناً وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاک ذات کو بھی ایسا ہی خیال کرے گا حتّٰی کہ وہ سمجھے گا یہی عظمَتِ الٰہی ہےبلکہ اگر مکھی کے پاس عقل ہوتی اور اس سے کہا جاتا کہ تیرے خالق کے نہ دو پر