ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتے ہیں کہ ہماری اور ہمارے ذریعے دوسروں کی اصلاح فرمائے اور مرنے سے پہلے ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرمائے ،بے شک وہی ہم پر انعام واکرام اور لُطف وکرم فرمانے والا ہے۔
یہ عِلْمِ مُعامَلہ میں عُلَما وصالحین کے غور وفکر کے مقامات ہیں، جب وہ ان سے فارغ ہوتے ہیں تو اپنے نفسوں کی طرف ان کی توجہ ختم ہو جاتی ہے۔ اب وہ ترقی کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت وجلال میں فکر کرتے اور دل کی آنکھ سے جمالِ قدرت کا مشاہدہ کرکے لذت اٹھاتے ہیں اور یہ سب کچھ ہلاک کرنے والی تمام صفات سے خلاصی اور نجات دینے والی تمام صفات سے موصوف ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔اگر اس سے پہلے اس میں سے کچھ ظاہر ہو جائے تو خراب، گدلا اورناقص وعارضی ہو گا گویا چمکنے والی بجلی ہے جوتھوڑی دیر بھی باقی نہیں رہتی۔ایسے شخص کی مثال اس عاشق کی سی ہے جسے اپنے معشوق کے ساتھ خلوت میسّر آئی لیکن اس کے لباس کے نیچے سانپ اور بچھو ہیں جوپے در پے اسے ڈس رہے ہیں۔ تو اس کے لئے مشاہدے کی لذّت بے کار ہو کر رہ گئی، کَما حَقُّہ لذّت وسرور کے لئے ضروری ہے کہ وہ سانپ اور بچھو کو اپنے لباس سے باہر نکالے۔
یہ مذموم صفات سانپ اور بچھو ہیں، ایذا بھی دیتی ہیں اور پریشان بھی کرتی ہیں اور قبر میں ان صفات کا ڈسنا سانپ اور بچھو کے ڈسنے سے زیادہ دردناک ہوگا۔انسان کو اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے اتنی مقدار کافی ہے کہ اسے جاننا چاہئے کہ اس کے نفس میں پائی جانے والی صفات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ ہیں یانا پسندیدہ۔
دوسری قسم: رب تعالٰی کی عظمت وکبریائی اور جلالت میں
غوروفکر کرنا(اس میں دو مقام ہیں)
پہلا مقام:
یہ اعلیٰ مقام ہے اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات اور اس کے اسما کے معانی میں غورو فکر کرنا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جس سے منع گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا:”تَفَکَّرُوْا فِیْ خَلْقِ اللہ ِتَعَالٰی وَلاَ تَتَفَکَّرُوْا فِی ذَاتِ اللہِ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں غور وفکر کرو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات میں فکر نہ کرو۔“(1) کیونکہ عقلیں اس میں حیران ہیں اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کتاب العظمة لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکر فی اٰیات اللّٰہ، ص۱۸، حدیث:۴