Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
433 - 784
دل میں نفاق اور دین میں فساد:
	سیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مال اور جاہ ومنصب  کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اُگاتا ہے۔“(1) ایک مقام پر ارشاد فرمایا:”دو بھوکے بھیڑیے جن کو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا نقصان مال اور جاہ ومنصب  کی محبت مسلمان کے دین میں کرتی ہے۔“(2)
جاہ ومنصب کی محبت کیسے دور ہو؟
	جاہ ومنصب  کی محبت دل سے اسی وقت نکل سکتی ہےجب لوگوں سے دوررہا جائے، ان سے میل جول رکھنے سے بھاگا جائےاور ہر اس چیز کو چھوڑ دیا جائے جو لوگوں کے دلوں میں مرتبہ بڑھانے کا سبب ہو۔عالِم کی فکر دل میں چھپی اُن صفات کو تلاش کرنے اور اُن سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہونی چاہئے، مُتَّقِی عالِم کا یہی وظیفہ ہے جبکہ ہمارے جیسوں کو چاہئے کہ اس چیز میں غوروفکر  کریں جس سے روزِقیامت  پر ہمارا ایمان مضبوط ہو۔اگرسلف صالحین ہمیں دیکھتے تو یقیناً وہ یہ کہتےکہ ان لوگوں کا قیامت کے دن پر ایمان نہیں۔ ہمارے اعمال جنت ودوزخ پر ایمان رکھنے والے کی طرح ہیں ہی نہیں کیونکہ جو جس چیز سے ڈرتا ہے اس سے بھاگتا ہے اور جس چیز کی اُمید رکھتا ہےاس کی طلب میں رہتا ہے۔ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ شبہات وحرام اور گناہوں کو چھوڑنا ہی جہنَّم سے بھاگنا ہے جبکہ ہم ان میں گرے پڑے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے  ہیں کہ جنت کی طلب کثیر نفلی عبادات کے ذریعے ہی ہے جبکہ ہم فرائض میں بھی کوتاہی کرتے ہیں۔
	ہمارے نزدیک تو علم کا ثمرہ  ونتیجہ یہی ہے کہ لوگ دُنیاوی حرص وطمع میں ہماری پیروی کریں اور کہا جائے کہ اگر یہ مذموم ہوتا تو علما اس سے بچنے کےزیادہ حقدار تھے۔ کاش ! ہم عوام کی طرح ہوتے ، جب مرتے تو ہمارے ساتھ ہمارے گناہ بھی مر جاتے۔  کتنا بڑا فتنہ ہے جس میں ہم مبتلا ہیں، کاش!ہم سوچ سکیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب کراھیة الغناء والزمر، ۴/ ۳۶۸، حدیث:۴۹۲۷،”حب الجاہ والمال“بدلہ”الغناء“
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ۴۳، ۴/ ۱۶۶، حدیث:۲۳۸۳
	حلیة الاولیاء،۷/ ۹۴، حدیث:۹۷۷۲،الرقم:۳۸۷،سفیان الثوری