Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
432 - 784
 گمنامی واجب ہے نیز جب اس سے سوال پوچھا جائے تو فتوٰی دینے سے بھی خود کو روکےکیونکہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے زمانے میں مسجد اصحابِ رسول سے بھری ہوتی تھی وہ سب کے سب مفتی ہونے کے باوجود فتوٰی دینے سے گریز کیا کرتے تھے، اگر کوئی فتوٰی دے بھی دیتا تو اس کی چاہت یہی ہوتی کہ کاش کوئی دوسرا مجھے اس سے بچا لیتا۔ عالِم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسانی شیطانوں سے خود کو بچائے کہ وہ کہیں گے تم ایسا مت کرو (یعنی فتوٰی دینا ترک نہ کرو اور گوشہ نشین نہ بنو) کیونکہ اگر تنہائی وگوشہ نشینی کا دروازہ کھل گیا تو مخلوق کے درمیان سے علوم مٹ جائیں گے۔ ان کے جواب میں وہ یوں کہے کہ دِیْنِ اِسلام کو صرف میری حاجت نہیں، یہ دین مجھ سے پہلے بھی آباد تھا اور میرے بعد بھی آباد رہے گا اور اگر میں مر گیا تو اسلام کے ارکان گر نہیں جائیں گے کیونکہ یہ دین مجھ سے بے نیاز ہے جبکہ میں اپنے دل کی اصلاح کرنے سے بے نیاز نہیں ہوں۔ جہاں تک گوشہ نشینی کے سبب علوم کے مٹ جانے کا تعلق ہے تو یہ ایک خیال ہے جو انتہائی درجہ کی جہالت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اگر لوگوں کو قید خانہ میں ڈال کر بیڑیاں لگاکر بند کر دیا جائے اور کہا جائے کہ علم حاصل کرو گے تو آگ میں ڈال دئیے جاؤگے تو پھر بھی بلند رتبے اور ریاست کی محبت انہیں ابھارے گی کہ بیڑیاں توڑ کر، قید خانے کہ دیواریں پھلانگ کر بھاگ کھڑے ہوں اورعلم کی طلب میں مشغول ہو ں۔
	جب تک شیطان مخلوق کے دل میں ریاست کی محبت ڈالتا رہے گا تب تک علوم کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا اور شیطان تو قیامت تک اس کام سے باز آنے والا نہیں اور علم پھیلانے کے لئے تو ایسے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوں گے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا جیسا کہ رسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے  شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے لوگوں سے بھی اس دین کی مدد لے لیتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“(1) مزید فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فاجر شخص سے بھی اس دین کی مدد لے لیتا ہے۔“(2) لہٰذا عالِم کو ان دھوکوں میں آکر مخلوق سے میل جول نہیں رکھنا چاہئے ورنہ تعریف وتعظیم اور قدرومنزلت  کی محبت اس کے دل میں اپنی جڑیں گاڑ لے گی اور یہی نفاق کا بیج ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…السنن الکبری للنسائی، کتاب السیر، باب الاستعانة بالفجار فی الحرب، ۵/ ۲۷۹، حدیث:۸۸۸۵
2…بخاری، کتاب الجھاد، باب ان اللّٰہ یؤید الدین بالرجل الفاجر، ۲/ ۳۲۸، حدیث:۳۰۶۲