Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
431 - 784
 ہے جبکہ اس کے سامنے  کسی دوسرے عالِم کاخطاب رد کیا جائے تو اسے غصّہ نہیں آتا کیونکہ اپنے بیان کے متعلق شیطان اس سے کہتا ہے:”تیرا غصّہ کرنا حق بجانب ہےکیونکہ تیری حق بات کو ناپسند اور رد کیا گیا ہے۔“  اب اگر وہ  شخص اپنے کلام کے رد ہونےاور دوسرے عالِم کے کلام کے رد ہونے میں فرق کرے تو وہ  دھوکے میں آکر شیطان کا آلَۂ کار بن گیا ہے۔ پھر جب وہ اپنے بیان وکلام کے مقبول ہونے اور اپنی تعریف پر خوش ہونے لگتا ہے اور  ناپسند ہونے اور ٹھکرائے جانے پر غصے کا شکار ہوتا ہے تو صرف یہ لالچ کرتے ہوئے کہ لوگ اس کی تعریف کریں بناوٹ اختیار کرکے الفاظ و ادائیگی کو خوبصورت بناتا ہےحالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بناوٹ اختیارکرنےوالوں کو پسند نہیں فرماتا۔ایسی صورت میں شیطان بسااوقات اسے یوں دھوکےمیں مبتلا کرتا ہے اور کہتا ہے:’’تمہارابناوٹ کرنا ا ور خوبصورت الفاظ استعمال کرناتو اس لئے تھا کہ حق پھیلے اور لوگوں کے دلوں میں دین کی عظمت بیٹھے۔‘‘ اب اگر وہ شخص اپنے خوبصورت الفاظ اورلوگوں کےتعریف  کرنے پر اتنا خوش ہو جتنا کسی اور عالِم کی تعریف پر نہیں ہوتا تو یہ دھوکے میں ہےاور قدرومنزلت کے حصول کا لالچی ہے اگرچہ یہ گمان رکھتا ہو کہ اس کا مقصود دین ہے۔ جب یہ باتیں اس کے دل میں آتی ہیں تو ظاہری جسم پر بھی ظاہر ہوتی ہیں حتّٰی کہ جو شخص اس کامعتقد  ہوتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے یہ اس سے نہایت خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ ملتا ہےجبکہ اس کے سوا کسی دوسرے کے لئے اتنا نہیں کرتااگرچہ کوئی دوسرا اس بات کا زیادہ مستحق ہی کیوں نہ ہو۔ بعض اوقات تو علما آپس میں عورتوں کی طرح غیرت کرتے ہیں۔چنانچہ ان  میں سے کسی پر یہ بات بھی گراں گزرتی ہے کہ ایک کا شاگرد دوسرے کے پاس جائےحالانکہ وہ یہ جان رہا ہوتا ہے کہ  وہ بھی علمی نفع اور دینی فائدہ ہی پہنچا رہا ہے۔
	یہ تمام نتیجہ اُن ہلاک کرنے والی صفات کا ہے جو دل میں پوشیدہ ہیں۔ بسااوقات عالِم خود کو ان سے محفوظ خیال کرتا ہےلیکن درحقیقت وہ مبتلائے فریب ہوتا ہے  اور مذکورہ علامات  کے ذریعے ہی اس کا انکشاف ہوتاہے۔
	عالِم کا فتنہ بہت بڑا ہے وہ یا تو بادشاہ  بن جاتا  ہے یا پھر ہلاک ہو جاتا ہے ، عوام کی مثل اس کے لئے بچنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا جو عالم اپنے اندر ان صفات کو محسوس کرے اس کے لئے گوشہ نشینی، تنہائی اور