اس بُری صفت کو دور کر کے اس کا دل اس سےپاک کر دیا اور اس بات کا یقین رکھے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد وتوفیق ہی سے ہوا ہے کیونکہ اگر وہ اس معاملے کو اپنے سپرد کرتا تو وہ چھوٹی سی برائی کو بھی خود سے دور کرنے پر قادر نہ ہو سکتا۔ اب بقیہ نو بُری صفات کی طرف پیش قدمی کرے اور اسی طرح کرتا رہے حتّٰی کہ تمام پر لکیر کھینچ دے۔ یونہی اپنے نفس سے مُنْجِیاتسے موصوف ہونے کا مطالبہ کرے، جب ان میں سے کسی ایک سے موصوف ہو جائے مثلاً توبہ و ندامت سے تو اس پر لکیر کھینچ کر بقیہ کے حصول میں مشغول ہوجائے ۔ ان باتوں کی ضرورت اس مرید کو ہے جو کوشش کے مراحل میں ہے۔
عبادت گزار اپنا محاسبہ یوں کریں:
جن کا شمار(بظاہر) صالحین کے زُمرے میں ہوتا ہے ان میں سے اکثر لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی کاپیوں میں ظاہری گناہ درج کریں مثلاً: شبہ والی چیزکھانا، زبان سے غیبت، چغلی،دوسرے کی بات کاٹنا اور اپنی تعریف کرنا، دوستوں کی دوستی اور دشمنوں کی دشمنی میں حد سے تجاوز کر جانا اور نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے بچنے کے مُعاملے میں لوگوں کے ساتھ منافقت سے پیش آنا کیونکہ اکثر لوگ جو خود کو صالحین کی صف میں شمار کرتے ہیں مذکورہ گناہوں سے اپنے جسمانی اعضاء کومحفوظ نہیں رکھ پاتے اور جب تک اعضاء کو گناہوں کی آلودگی سے پاک نہ کر لیا جائے اس وقت تک دل کی صفائی اور تعمیر وترقی میں مشغول ہونا ممکن نہیں۔ ہر خاص وعام پر گناہوں کی کسی نہ کسی قسم کا غلبہ نظر آتا ہےتو بہتر یہ ہے کہ ان گناہوں کو خود سے دور کرے اور انہی کے بارے میں غور وفکر کرےاوراُن گناہوں کے بارے میں نہ سوچے جن سے وہ دور ہے۔
علما،خطبا اور مبلغین کے لئے مقامِ غور:
مُتَّقِی عالِمِ دِین بھی اکثر وبیشتر وعظ وتقریر یا درس وتدریس کے ذریعےاپنے علم کے اظہار، شہرت کی طلب اوراپنی ناموری پھیلانےسے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ جس نے ایسا کیا اس نے خود کو بہت بڑے فتنے پر پیش کیا جس سے صرف صدیقین ہی بچ سکتے ہیں کیونکہ اگر اس عالِمِ دِین کی تقریر لوگوں میں مشہور اور دلوں میں گھر کرجائے تو وہ خود پسندی، فخر وغرور اور خوشی سے پھولے نہیں سماتااور یہی بات ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔ اگر اس کی تقریر یا بیان کو رد کر دیا جائے تو رد کرنے والے پر غیظ وغضب اور اس کے لئے دل میں کینہ رکھتا