ہے حتّٰی کہ اس پرآگاہی بھی نہیں ہوپاتی۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دو شخصوں کے درمیان اتفاقی طور پر اتحاد ہوتا ہے حالانکہ جس میں نہ جمال کا لحاظ ہوتاہے اور نہ ہی کوئی مال وغیرہ کی طمع ہوتی ہے۔ جیسا کہ رسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہےکہ”اَلۡاَرۡوَاحُ جُنُوۡدٌ مُجَــنَّدةٌ مَا تَعَارَفَ مِنۡھَا ائۡتَلَفَ وَمَا تَنَاکَرَ مِنۡھَا اخۡتَلَفَیعنی روحیں(عالَمِ اَرواح میں)فوج کی طرح جمع ہیں جن کے مابین وہاں آشنائی ہوگئی ان کے درمیان یہاں الفت ہوگی اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف رہیں وہ یہاں بھی ناواقف رہیں گی۔“(1)
حدیثِ پاک میں”تَعَارَفَ“ سے مرادتناسب(باہمی تعلق) ہے اور” تَنَاکَرَ“ سے مراد باہمی دوری ہے اور یہ سبب بھی باطنی مشابہت کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کاتقاضاکرتا ہے، ظاہری صورت اور شکل میں مناسبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن باطنی معانی کی وجہ سے جن میں سے بعض کو کتابوں میں لکھا جاسکتا ہے اوربعض کو لکھنا جائز نہیں۔ بلکہ انہیں پردۂ غیرت کے نیچے رہنے دیا جاتا ہے حتّٰی کہ راہِ طریقت کے مسافر جب سلوک کی منزلیں طے کرلیں تو ان باتوں پر مُطَّلَع ہوجائیں۔پس جو با ت بیان کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ بندے کو ان صفات میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاقُرب حاصل ہو جن میں اقتدا اور اخلاقِ ربُوبِیَّت کا حکم دیا گیا ہے حتّٰی کہ فرمایا گیا:’’تَخَلَّقُوۡا بِاَخۡلَاقِ اللّٰہِ یعنی اخلاقِ الٰہی سے مزین ہوجاؤ۔“
اس کامعنیٰ یہ ہے کہ اُن قابلِ تعریف صفات کو حاصل کرو جو صفاتِ الٰہیہ ہیں جیسے علم،نیکی ،احسان، لُطف وکرم،بھلائی کا فیضان،مخلوق پر رَحم، ان کے ساتھ خیر خواہی اورحق کی ہدایت اور باطل سے روکنا وغیرہ۔ یہ ساری شرعی خوبیاں بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب کرتی ہیں اوریہاں قربِ مکانی نہیں بلکہ صفات میں قرب مراد ہے۔ بہر حال جس مناسبت کو کتابوں میں ذکر کرنا جائز نہیں اس سے مراد وہ مناسبت ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہے اوراس کی طرف درج ذیل فرمانِ باری تعالٰی میں اشارہ ہے:
وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے واضح فرمادیا کہ روح امْرِ ربّانی اور مخلوق کی عقلوں کی حد سے خارج ہےاور اس سے بھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب البر والصلة، باب الارواح جنود مجندة،ص۱۴۱۸،حدیث:۲۶۳۸