Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
429 - 784
 تاکہ اس کے سبب شوہر سے ملنے کے قابل ہو جائے، اگر وہ ساری عُمْر رِحم کی صفائی اورچہرے کو آراستہ کرنے  میں ہی مصروف رہے گی تو یہ عمل محبوب سے ملاقات میں رکاوٹ بنا رہے گا۔
	اگر تم اہْلِ محبت میں سےہو تو تمہیں بھی دین کا طریقہ ایسے ہی سمجھنا چاہئےاور اگر تم شریر غلام کی طرح ہو جو مار کےخوف اور اُجرت کی طمع ہی کی وجہ سے حرکت کرتا ہے تو ظاہری اعمال کر کے اپنے بدن کو تھکانا چھوڑ دو کیونکہ تمہارے اور تمہارے دل کے درمیان ایک موٹا پردہ حائل ہےاگرچہ تم اعمال کا حق پورا کرو گے تو اہْلِ جنَّت میں سے ہو جاؤ گے لیکن  محبت  و ہم نشینی کے قابل تو کچھ اور ہی لوگ ہیں۔ اب جبکہ تم نے بندے اور رب عَزَّ  وَجَلَّ کے مابین عُلُومِ مُعامَلہ میں فکر کے مقامات کو پہچان لیا ہے تو تمہیں چاہئے کہ اسے اپنا دستور اور  صبح وشام اپنی عادت بنا لو۔ اپنی ذات اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دورکرنے والی صفات اور اس کے قرب کا سبب بننے والے احوال سے بالکل غفلت نہ بَرتو۔
اپنا مُحاسَبہ کیسے کیا جائے؟
	ہر مرید (یعنی راہِ سُلوک پر چلنےوالے)کو چاہئے کہ اپنے پاس ایک کاپی رکھےجس میں تمام مُہْلِکات(یعنی ہلاک کرنے والی صفات )، تماممُنْجِیات(یعنی نجات دلانے والی صفات)،گناہ اور عبادات درج ہوں جن پر ہر روز خود کو پیش کر کے اپنا محاسبہ کرے، مہلکات میں سے دس چیزوں کو مدِّنَظَر رکھنا مریدکے لئے کافی ہے کیونکہ اگر وہ ان دس سے بچ گیا تو بقیہ سے بھی محفوظ ہو جائےگااورمُنْجِیاتمیں سے بھی دس چیزوں کو سامنے رکھے۔
٭…10مُھْلِکَات: بخل، تکبر، خود پسندی، ریاکاری، حسد، غصے کا غلبہ، کھانے کی حرص،ہم بستری کی خواہش، مال کی محبت اور جاہ ومنزلت کی محبت۔
٭…10مُنْجِیَات: گناہوں پر ندامت، مصائب پر صبر، رب تعالیٰ کی رِضا پر راضی رہنا، نعمتوں پر شکر، اُمید وخوف میں میانہ روی، دنیا سے بے رغبتی، اعمال میں اخلاص، حُسْنِ اَخلاق، محبَّتِ الٰہی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے عاجزی کرنا۔
	یہ20صفات ہیں جن میں دس اچھی اور دس بری ہیں ۔جب بُری صفات  میں سے ایک چلی جائے تو اپنی کاپی میں اس پر لکیر کھینچ کر اس کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرے کہ اس نے