Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
428 - 784
وفکر کا یہی طریقہ ہے۔راہِ سُلوک کی ابتدا کرنے والے کو چاہئے کہ تمام وقت ان ہی افکار میں ڈوبا رہے حتّٰی کہ اس کا دل اچھے اخلاق  اور مقامات شریفہ سے معمور ہو جائے اور اس کا ظاہر و باطن بُری صفات سے پاک وصاف ہو جائے۔
غوروفکر کا مقصود:
	یہ بات ذہن نشین رہے کہ غوروفکر اگرچہ تمام عبادتوں سے افضل ہے لیکن یہ مقصد کی انتہا نہیں بلکہ جو صرف اسی میں مشغول رہتا ہے وہ صِدِّیْقِیْن کے مطلوب سے دور رہتا ہےاور وہ مطلوب جلال و جمالِ الٰہی میں غوروفکر کر کے لذّت وسرور حاصل کرنا اور دل کا اس طرح مُسْتَغْرَق ہو جانا ہے کہ اپنا بھی خیال نہ رہے۔ یعنی اپنی ذات،اپنے مقامات و احوال اور اپنی صفات کو بھول کر محبوب کے غم میں ایسے مستغرق ہو جانا جیسے ایک عاشِقِ صادق دیدارِ محبوب کے وقت ہوتاہےکہ  اسے اپنی حالت کی بھی خبرنہیں ہوتی بلکہ وہ خود سے غافل اور حیران و پریشان رہ جاتا ہے اور یہی عاشقوں کی لذّت کی انتہا ہے۔
	یہ تمام گفتگو اس غوروفکر کے بارے میں ہے جو دل کی تعمیر کرے تاکہ وہ قرب ووِصال کی لذّت سے آشنا ہونے کے قابل ہو سکے۔ جب بندہ اپنی تمام عمر غوروفکر ہی میں صرف کر دے گا تو قرب کی لذّت کب اُٹھائے گا؟ 
مطلوب ومقصود ”فَنَا فِی اللّٰہ“ ہوناہے:
	حضرت سیِّدُناابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جنگلوں میں پھرا کرتے تھے ۔ایک دن حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےان سے پوچھا:”کس حال میں ہیں؟“ کہنے لگے:”توکل کے معاملے میں اپنے حال کی اصلاح کی خاطر جنگلوں کے چکر کاٹ رہا ہوں۔“حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”آپ نے تو اپنی زندگی اپنے باطن کی تعمیر وترقی میں فنا کردی توحید میں کب فنا ہوگے؟“
	”فَنَا فِی اللّٰہ “ہونا ہی طالِبِیْن کا مقصود اورصِدِّیْقِیْن کی لذّت کی انتہا ہے۔ہلاک کرنے والی صفات سے بچنا تو نکاح کی عدت سے نکلنے کی طرح ہے جبکہ نجات دلانے والی صفات اور تمام عبادات سے مُتَّصِف ہونا ایسا ہے جیسے کوئی عورت اپنے شوہر کے لئے تیار ہو،خود کو ستھرا کرے، ہاتھ منہ دھوئےاوربالوں میں کنگھا کرے