Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
427 - 784
قرآنِ مجید ا وراحادِ یْثِ نبویہ میں غوروفکر:
	ان تمام کو اگر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو  غوروفکر سے تلاوتِ قرآن کرنے میں سب سے زیادہ فائدہ ہے کیونکہ قرآنِ مجید تمام مقامات واحوال کاجامع ہے اور اس میں عالَمِین کے لئے شفا ہے۔ اس میں وہ باتیں بھی ہیں جو خوف، امید، صبرو شکر،محبت وشوق اور تمام احوال پیدا کرتی ہیں نیز یہ قرآن تمام صفاتِ مذمومہ سے بھی ڈراتا ہے۔ لہٰذا بندے کو چاہئے کہ اس کی تلاوت کرے اور جس آیت میں وہ غوروفکر  کا محتا ج ہے اس کو بار بار پڑھے حتّٰی کہ سو مرتبہ ہی کیوں نہ ہو۔ قرآنِ مجید کی ایک آیت غوروفکر اور سمجھ کے ساتھ پڑھنا بغیر غوروفکرکے پورا قرآن ختم کرنے سے افضل ہے۔ایک آیت میں بھی غور وفکر کے لئے توقف کرے کیونکہ قرآن پاک کے ہرکلمہ کے تحت بے شمار اسرار و رُموز ہیں۔انتہائی غورو فکر،ستھرے دل اور صدقِ معاملہ کے بعد ہی ان پر واقفیت ممکن ہے۔
	احادِ یْثِ نبویہ کو بھی پڑھتے ہوئے اسی طرح غوروفکر کرے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جوامِعُ الْکَلِم عطا کئے گئے ہیں۔(1) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام میں سے ہرکلمہ حکمت کے سمندروں میں سے ایک سمندر ہے، غور وفکر کرنے کا جیسا حق ہے اگر عالِم اس طرح  اس میں غور وفکر کرے تو ساری زندگی اس میں نظر ہی کرتا رہے گا۔ ایک ایک آیت وحدیث کی شرح کرنا بہت طویل ہے مثلاًحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس فرمان ہی کو دیکھ لیجئےکہ ”بے شک حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ جس سے محبت کرنا چاہیں کریں بالآخر اُس سے جدا ہونا ہے اور جب تک جینا ہے جی لیں بالآخر آپ نے اس دنیا سے پردہ فرمانا ہے اور جو عمل چاہیں کریں بے شک اس کا بدلہ دیا جائے گا۔“(2) یقیناً یہ کلمات  تمام اوَّلین وآخرین کی حکمتوں کو جامع ہیں اور پوری زندگی غور وفکر کرنے والوں کے لئے کافی ہیں کیونکہ اگر لوگ ان کےمعانی پر مطلع ہو جائیں پھر ان کے دلوں پر یقین کا غلبہ ہو جائے تو وہ بالکل بھی دنیا کی طرف اِلتفات نہ کریں۔
	بندوں کی صفات خواہ  وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک پسندیدہ ہوں یا نا پسند ان میں اور عُلُومِ مُعامَلہ میں غور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسلم، کتاب المساجد، ص۲۶۶، حدیث:۵۲۳
2…المعجم الاوسط،۳/ ۱۸۷،حدیث:۴۲۷۸…المستدرک،کتاب الرقاق،باب شرف المؤمن قیام اللیل،۵/ ۴۶۳،حدیث:۷۹۹۱