میں کوئی کمال ہوتا تو علم وقدرت کی طرح یہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور فرشتوں کی صفت ہوتی ،جانوروں کی نہ ہوتی۔لہٰذاجب جب بندے پر یہ صفت غالب ہو گی وہ جانوروں سے زیادہ مشابہ اور مُقَرَّبِیْن فَرِشتوں سے زیادہ دور ہو جائے گا۔ یونہی غصے کی صورت میں بھی خود سے گفتگو کرے اور اس کے عِلاج میں غور وفکر کرے۔
یہ تمام باتیں ہم نےمُہْلِکات(یعنی تیسری جلد) میں بیان کر دی ہیں جوغورو فکر کے راستے کی کشادگی کا طبگار ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جوکچھ اس باب میں ہے اسے حاصل کرے۔
چوتھی قسم:نجات دلانے والی صفات
توبہ اور گناہوں پر ندامت، مصیبتوں پر صبر، نعمتوں پر شکر، خوفِ خُدا، رب تعالیٰ کی رحمت کی امید، دنیا سے بے رغبتی و اخلاص، عبادت میں سچائی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت وتعظیم، اس کے افعال پر رضامندی، اس سے ملاقات کا شوق اور اس کے لئے عاجزی وانکساری کرنانجات دلانے والی صفات ہیں۔یہ تمام صفات ہم نے اس حصے میں بیان کی ہیں اور ان کے اسباب وعلامات کو بھی ذکر کیا ہے۔بندے کو چاہئے کہ روزانہ اپنے دل میں یہ غور وفکر کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب کرنے والی ان صفات میں سے اسے کس صفت کی ضرورت ہے؟ جب وہ کسی کی طرف ضرورت محسوس کرے تو جان لے کہ یہ صفات احوال ہیں اور علم ہی کے ذریعہ ان کا ثمرہ ونتیجہ حاصل ہو سکتا ہے اور علوم بغیرغورو فکر کے نہیں آتے۔
توبہ،شکراور محبت وشوق کیسے حاصل ہو؟
جب بندہ توبہ وندامت کے احوال حاصل کرنا چاہے تو پہلے اپنے گناہوں کے بارے میں غوروفکر کرے اور ان سب کو دل میں جمع کر کے بڑا خیال کرے پھر شریعت میں ان پر وارد ہونے والی عذاب کی وعیدوں کی طرف نظر کرے اور یہ یقین کر لے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب پر پیش ہونے والا ہے یہاں تک کہ ندامت کی حالت اس میں پیدا ہوجائے۔
جب اپنے دل کو حالَتِ شکر پر لانا چاہے تو خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسان وانعامات کی طرف نظر کرے اور سوچے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کیسے اس کے گناہوں کو نیکیوں کے پر دوں میں چھپا رکھا ہے؟ اس کی وضاحت ہم نے ”صبر وشکر کے بیان“ میں کر دی ہے، وہاں سے اس کا مطالعہ کر لیں۔