غصہ پیتا ہے یا نہیں؟ یونہی تمام صفات میں نفس کا امتحان لیتا رہے۔
یہ غوروفکر اس سلسلے میں ہے کہ بندے میں ناپسندیدہ صفات پائی جاتی ہیں یا نہیں؟اس کی علامتیں ہم مُہْلِکات(یعنی تیسری جلد) میں بیان کر چکے ہیں۔ اگرناپسندیدہ صفات کی موجودگی پر کوئی علامت پائے تو اُن اسباب میں غور وفکر کرے جو ان صفات کو اس کی نظر میں بُرا کر دیں اور اس پر واضح ہو جائے کہ جہالت، غفلت اور باطنی خباثت کے باعث یہ صفات پیدا ہوئی ہیں۔
خود پسندی سے کیسے بچیں؟
جب اپنے عمل میں عُجْب(یعنی خود پسندی) دیکھے تو یوں غور وفکر کرے کہ یقیناً میرا یہ عمل میرے بدن، میرے اعضاءاور میری طاقت و ارادے سے ہوا ہے لیکن حقیقی طور پر اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیدا کرنے اور اس کے فضل سے مجھے یہ توفیق ملی ہے۔وہی تو ہے جس نے مجھے ، میرے اعضاء کو اور میرے ارادے وطاقت کو تخلیق فرمایا ہےاور وہی ہے جس نے میرے اعضاء اور طاقت وارادے کو حرکت کرنے کی قوت بخشی ہے پھر میں کیسے خود پر یا اپنےعمل پر شیخی مار سکتا ہوں حالانکہ میں (توفیْقِ الٰہی کےبغیر) خود سے کھڑا بھی نہیں ہوسکتا۔
تکبر سے کیسے بچیں؟
بندہ جب اپنے نفس میں تکبر کی بو محسوس کرے تو خود کو یقین دلائے کہ یہ حماقت ہے اور اپنے آپ سے کہے: تو کیوں خود کو بڑا خیال کرتا ہے؟حقیقت میں توبڑا وہی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بڑا ہواور موت کے بعد یہ واضح بھی ہو جائےگا۔ کتنے ہی کافر ایسے ہیں جو مرتے وقت کفر سے تائب ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقرَّب بن جاتے ہیں اور کتنے ہی مسلمان وقْتِ موت حالت بدلنےکی وجہ سے برے خاتمے کے سبب بدبختی سے دوچار ہوکر اس دنیا سے نکل جاتے ہیں۔
جب وہ جان لے کہ تکبر ہلاکت میں ڈالنے والا ہے اور اس کی جڑ حماقت ہے تو اس کے ازالہ کےلئے علاج کی فکر اس طرح کرے کہ عاجزی وانکساری کرنے والوں کے طور طریقے اپنائےاور جب کھانے کی شدید خواہش اپنے اندر محسوس کرے تو سوچےکہ یہ تو جانوروں کی صفت ہے۔اگر کھانے کی شدید خواہش اور جماع