انعام ہے تاکہ میں اس کا شکر ادا کروں ۔ مجھے کیا ہو گیا کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کی بےقدری کرکے اس کی ناشکری کر رہا ہوں۔ اسی طرح زبان کے معاملے میں غور وفکر کرےاور کہے: یقیناً میں عِلْمِ دِین سیکھ کر اور سکھا کر، وعظ ونصیحت، بزرگانِ دین سے محبت اور محتاجوں کی خبر گیری کر کے قُربِ الٰہی حاصل کر سکتا ہوں۔ یوں ہی کسی نیک شخص یا عالِمِ دِین کے لئے اچھی بات کہہ کر ان کے دل کو خوش کر سکتا ہوں کہ ہر اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔ ایسے ہی مال کے بارے میں غوروفکر کرے کہ میرا فلاں مال جس کی مجھے ضرورت نہیں میں اسے صدقہ کردوں تو بہتر ہے۔ جب مجھے اس کی ضرورت ہو گی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مثل اور عطا فرما دے گا اور اگر مجھے ابھی اس مال کی حاجت ہے تو اس مال کے مقابلے میں مجھے ثواب کی حاجت زیادہ ہے۔
اسی طرح اپنے تمام اعضاء، پورے بدن اور اپنے تمام اموال کی تفتیش کرے بلکہ اپنے چوپائیوں، غلاموں اور اولاد کے معاملے میں بھی غوروفکر کرے کیونکہ یہ تمام اس کے آلات واسباب ہیں اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرے لہٰذا اسے چاہئے کہ ان آلات و اسباب کے ذریعے گہری سوچ وفکر سے نیکیاں کمانے کے ممکنہ راستے نکالے اوراس چیز میں غوروفکر کرےجو ان نیکیوں کی طرف جلدی لے جائے نیز اس سلسلے میں اخلاصِ نیت کوبھی ملحوظ رکھے اور جہاں اصلاحِ نیت کی ضرورت ہو اس کی بھی کوشش کرے تاکہ اس کا عمل ستھرا اورپاکیزہ ہوجائے۔ تمام عبادات کو اسی پر قیاس کرلو۔
تیسری قسم:ہلاکت میں ڈالنے والی صفات
ان صفات کا محل دل ہے۔مُہْلِکات(یعنی تیسری جلد) میں ہم نے ان کوذکر کیا ہے وہاں سے ان کی پہچان حاصل کر لو۔ یہ صفات شہوت کا غلبہ، غصہ، بخل، تکبر، ریا کاری ، خود پسندی، حسد، بدگمانی ، غفلت اور غرور وغیرہ ہیں۔ بندہ اپنے دل سے ان کا بوجھ اتار پھینکے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کا دل ان صفات سے پاک ہےتو اس کا امتحان لینے کے لئے ایسی علامات تلاش کرے جو اس کے گمان کی تصدیق کریں کیونکہ نفس ہمیشہ اچھی بات کا وعدہ کر کے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ جب نفس تکبر سے بری ہونے اور عاجزی وانکساری کادعوٰی کرے تو بندےکو چاہئے کہ بازار میں لکڑیوں کا گٹھا اٹھاکر نفس کا امتحان لے جیسا کہ پہلے لوگ اس طرح اپنےنفس کا امتحان لیا کرتے تھے۔جب نفس بُردباری کا دعوٰی کرے تو اسے غیر کے غصے پرپیش کر دے پھر دیکھے کہ یہ