Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
422 - 784
 رہا، حلال میں بھی اتنا زیادہ تو نہیں کھا رہا جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ناپسند  ہے اور اس شہوت کو مضبوط کرتا ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دشمن شیطان کا ہتھیار ہے یا پھر حرام و مشتبہ چیز تو نہیں کھا رہا۔
	اسی طرح غور وفکر کرے کہ اس کا کھاناپینا، اوڑھنا بچھونا اور کمانا کہاں سے ہے؟یہ معلوم کرنے کےبعد حلال کے طریقوں اور اس میں داخل ہونے والے راستوں میں غور وفکر کرے پھر ان سے کمانے کی صورت اور حرام سے بچنے میں غور وفکر کرے نیز اپنے دل میں اس بات کو جما لے کہ حرام کھانے کی صورت میں تمام عبادتیں ضائع ہوجاتی ہیں اور حلال ہی تمام عبادتوں کی بنیاد ہے۔ حدیْثِ پاک میں ہے:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کپڑےمیں نماز قبول نہیں فرماتا جس کی قیمت میں ایک درہم بھی حرام کا ہو ۔“
	اسی طرح اپنے بقیہ اعضاء میں غور وفکر کرے۔ جب  غور وفکر کے ذریعے اسے ان احوال کے متعلق مَعرِفت کی حقیقت حاصل ہوجائے  تو پورا دن مراقبہ میں مشغول رہے حتّٰی کہ اعضاء ان تمام خرابیوں سے محفوظ ہوجائیں۔
دوسری قسم:اطاعت والی صفات
	(ان صفات کے متعلق غور وفکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ)بندہ پہلے اپنےفرائض میں غور وفکر کرے کہ وہ ان کو کیسے ادا کرتا ہے؟ اور کیسے کوتاہی ونقصان سے ان کی حفاظت کرتا ہے؟ یا پھر کثرتِ نوافل کے ذریعے ان کے نقصان کو کیسے پورا کرتا ہے؟پھر ہرہر عضو کی طرف رجوع کرے اور ان سے صادر ہونے والےاُن افعال میں غور وفکر کرے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو محبوب ہیں ۔ مثلاًوہ یوں کہے:میں اپنی آنکھ کو قرآن وسنت کے مطالعے میں مشغول کیوں نہیں رکھتا حالانکہ  آنکھ اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ زمین و آسمانوں کی سلطنت دیکھ کر عبرت حاصل کرے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت میں استعمال کی جائےاور قرآن وسنت کو دیکھے اور کہے: یہ بھی میرے اختیار میں ہے کہ فلاں نیک شخص کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھوں تاکہ اس کے دل میں سُرور داخل ہو اور فلاں فاسق کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر اسے گناہ پر عار دلاؤں تو میں ایسا کیوں نہیں کرتا؟ ایسےہی اپنے کانوں کے معاملے میں کہے: میں مظلوم کی فریاد یا علم وحکمت کی باتیں یاپھر ذکر وتلاوت سننے پر قادر ہوں پھر مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں نے ان باتوں کو  چھوڑا ہوا ہے حالانکہ قوتِ سماعت  تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مجھ پر