Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
421 - 784
پہلی قسم:نافرمانی والی صفات
	انسان کو چاہئے (ان صفات کے متعلق یوں غور وفکر کرے)کہ ہر صبح اپنےسات اعضاء  کی تفصیلاً تفتیش کرے پھر تمام بدن کی تفتیش کرے کہ کہیں اس نے نافرمانی کا لبادہ تو نہیں اوڑھ رکھا (کہ اگر ایسا ہےتو) اسے اُتار پھینکےیا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ گزشتہ کل اس نے یہ لباسِ مَعْصِیَّت پہن رکھا تھا تاکہ ترک وندامت کے ساتھ اس کا مداوا کر سکے یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ دن میں اس میں مبتلا ہوجائے گا  تاکہ اس سے بچنے اور دور رہنے کی تیاری کرے۔
زبان کے متعلق غور وفکر کا طریقہ:
	بندے کو چاہئے کہ زبان کی طرف متوجہ ہو اور کہے:یہ غیبت، جھوٹ، اپنی تعریف کرنے، دوسروں کے ساتھ مذاق مسخری،جھگڑنے، فضول گوئی اورکئی ناپسندیدہ باتوں میں ملوَّث ہو سکتی ہے۔اب پہلے وہ اس بات کو دل میں جمائے کہ یہ سب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند نہیں اور قرآن وحدیث میں ان کے متعلق وارد ہونے والی شدید عذاب کی وعیدوں میں غور وفکر کرے پھر سوچے کہ میری زبان پر ان سب چیزوں نےکیسے حملہ کر دیا کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ اب غور وفکر کرےکہ ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اور یہ جانے کہ ان سے بچنے کا راستہ تنہائی ہے یا پھر نیک لوگوں کی صحبت جن کی موجودگی میں وہ گناہ بھری  گفتگو کرے تو وہ اس کی راہنمائی کریں یا پھر اپنےمنہ میں پتھر رکھ کر عام لوگوں کے ساتھ بیٹھےتا کہ یہ منہ میں پتھر رکھنا اسے( گناہ سے بچنا)یاد دلائے۔ گناہ سے بچنے کے لئے فکر ایسے ہی ہوتی ہے۔
کان کے متعلق غور وفکر کا طریقہ:
	کان کے متعلق یوں غور وفکر کرے کہ اس کے سبب وہ غیبت، جھوٹ، فضول گوئی، لہو ولعب اور بدعت وغیرہ سننے تک پہنچ سکتا ہے لہٰذا اگر وہ زید یا عمرو سےایسی گفتگو سنتا ہے تو اسے چاہئے کہ ان سے جدائی اختیار کرکے یا پھر بُرائی سے منع کرکے خود کو بچائے۔
پیٹ کے متعلق غور وفکر کا طریقہ:
	پیٹ کے معاملے میں یہ غور وفکر کرے کہ وہ کھانےپینے کے معاملے میں رب تعالیٰ کی نافرمانی تو نہیں کر